سیِّدُنا حارث بنعبداللّٰہ محاسبیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی جیسے بہت بڑے عابد وزاہد سے بھی صرف اس وجہ سے قطع تعلقی فرمالی کہ انہوں نے بدعتیوں کے رد میں ایک کتاب لکھی تھی۔ کتاب دیکھ کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ان سے فرمایا: ’’جناب! کیا آپ نے کتاب لکھتے ہوئے پہلے بدعتیوں کی بدعات تحریر کرکے اس کا رد نہیں کیا؟ کیا آپ نے اس اندازِ تحریر سے عوامُ النّاس کوبدعتوں کا مطالعہ کرنے اور پھر شکوک وشبہات میں پڑنے کا دعوت نامہ فراہم نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ دینی و اعتقادی مسائل میں اضطراب و الجھاؤ کا شکار ہوں ؟‘‘
٭…علمائے متکلمین زندیق ہیں ۔(۱)
سیِّدُنا اِمام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کا نظریہ:
٭…اگر متکلمین کا اپنے سے زیادہ اس فن کے ماہر شخص سے واسطہ پڑے تو وہ اس کی سن کر اپنا اعتقاد بدل دے گا اور یوں ہر روز وہ اپنا دین بدلتا پھرے گا(۲) کیونکہ مجادلہ ومناظرہ کرنے والوں کے اقوال وآرا مختلف ہوتے ہیں ۔
٭…بدعتیوں اور اَہْل ہَوَا(خواہشات کے پیروکار) کی گواہی نامقبول ہے۔ (۳)
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کے بعض شاگردوں نے کہا کہ ’’اَہْل ہَوَا سے امام صاحب کی مرادمتکلمین ہیں خواہ کسی بھی مذہب کے پیروکار ہوں ۔‘‘
سیِّدُناامام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا نظریہ:
٭…جو علم کلام کی طلب میں مشغول ہوا وہ گمراہ ہوا۔(۴)
سیِّدُناامام حسن بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا نظریہ:
٭…نہ توبدعتیوں سے مناظرہ کرو، نہ ان کی محفل میں بیٹھو اور نہ ہی ان کی کوئی بات سنو۔(۵)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…حیاۃ الحیوان، باب الھمزۃ، ج۱، ص۲۳۔
2…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ماتکرہ فیہ المناظرۃ…الخ، ص۳۶۷۔
3…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ماتکرہ فیہ المناظرۃ…الخ، ص۳۶۸۔
4…الکامل فی ضعفاء الرجال، الباب السادس والعشرون، ج۱، ص۱۱۱، بتغیرٍ۔
5…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ماتکرہ فیہ المناظرۃ…الخ، ص۳۶۹۔