Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
314 - 1087
٭… حضرت سیِّدُنا حسین بن علی کرابیسی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکہتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی سے علمِ کلام کا کوئی مسئلہ پوچھاگیاتوآپ جلال میں آگئے اور فرمانے لگے: ’’جاؤ! اس مسئلے کا حل حفص فرد اور اس کے ساتھیوں سے پوچھو۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہیں رسوا کرے۔‘‘  (۱)
٭… جب حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی بیمار ہوئے تو حفص فرد ان کے پاس آکر پوچھنے لگا کہ ’’میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ فرمایا: ’’تو حفص فرد ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تیری حفاظت کرے نہ تجھے رعایت دے، جب تک اس سے توبہ نہ کرلے جس میں تومبتلا ہے۔‘‘
٭…اگر لوگ علمِ کلام کی درپردہ برائیاں جان لیں تو اس سے ایسے ہی بھاگیں جیسے شیر سے بھاگتے ہیں ۔ (۲)
٭…جب تم کسی شخص کو یہ کہتے سنو کہ اسم ہی مُسَمّٰی (۳)ہے یا یہ کہ اسم مُسَمّٰی کا غیر ہے تو جان لو کہ ایسی باتیں کرنے والا علمِ کلام میں پڑا ہوا اور بے دین ہے۔  (۴)
٭…حضرت سیِّدُنا حسن بن محمد زعفرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’میں چاہتا ہوں کہ علمِ کلام والوں پر ڈنڈے برسائے جائیں ، پھر انہیں ہر قبیلے اور خاندان میں پھرا کر اعلان کیا جائے کہ جو قرآن وحدیث چھوڑ کر علمِ کلام سیکھنے میں لگ جائیں ان کی سزایہ ہے ۔‘‘  (۵)
سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کا نظریہ:
٭…علمِ کلام سیکھنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا اور اچھی طرح جان لو کہ جو علمِ کلام کی طرف مائل ہوگا اس کے دل میں ضرور فساد چھپا ہوگا۔ (۶)
٭…حضرت سیِّدُنا امام احمدبن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل نے علم کلام کی مذمت میں اس قدر مبالغہ فرمایا کہ حضرت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ماتکرہ فیہ المناظرۃ…الخ، الحدیث:۹۸۷، ص۳۶۷۔
2…المرجع السابق، ص۳۶۷۔
3…مُسَمّٰی یعنی نام زد چیز۔ جس شے پر دلالت کرنے کے لئے اسم وضع کیا جائے۔
4…جامع بیان العلم وفضلہ، باب ماتکرہ فیہ المناظرۃ…الخ، الحدیث:۹۸۷، ص۳۶۷۔
5…المرجع السابق، ص۳۶۷۔		
6…المرجع السابق، ص۳۶۷۔