سننے والا دلیل کو تقلید کے طور پر اسی طرح مانتاہے جس طرح نفس اعتقاد کو کیونکہ تقلیدخواہ دلیل سیکھنے میں ہو یا مدلول سیکھنے میں ،دونوں برابر ہیں ۔پس دلیل بتانا الگ چیز ہے اور دلیل سے مسئلہ ثابت کرنا دوسری بات جو اس سے بہت دور ہے۔
پھراگر بچہ عقائد ِ اہل سنت پر کاربند رہتے ہوئے زندگی گزارے اور اس حوالے سے مزید کچھ سیکھنے کے بجائے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو جائے تو اگرچہ کئی بند عقدے اس پر نہیں کھلے ہوں گے، لیکن بروزِ قیامت وہ ان عقائد ِ حقہ کی برکت سے سلامت رہے گا کیونکہ شریعت ِ اسلامیہ نے عرب کے کند ذہن لوگوں کو عقائد ِ حقہ کے زبانی اقرار اور قلبی تصدیق سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا۔نیز انہیں بحث وتحقیق اور دلائل جمع کرنے کا پابند ہرگز نہیں بنایا گیا۔
ہاں ! یہ بات ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص راہ ِ آخرت اختیار کرنا چاہے اور رحمت ِ الٰہی بھی اس کے شامل حال ہو اور وہ خواہشاتِ نفسانیہ کو ترک کرنے کے ساتھ ساتھ اعمالِ صالحہ، تقویٰ اور ریاضت ومجاہدہ کی پابندی کرے تواس مجاہدہ کی برکت سے اس کا دل نورِ الٰہی سے منور ہو گاجس کی روشنی میں عقائد ِاہل سنت کے حقائق اس پر واضح ہوتے چلے جائیں گے۔کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا وعدہ ہے:
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿٪۶۹﴾ (پ۲۱، العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے اوربے شک اللّٰہ نیکوں کے ساتھ ہے۔
بلند درجات کے حصول کاسبب:
یہی نور وہ نفیس جوہر ہے جو صدیقین ومقربین کے ایمان کی انتہا ہے اور یہی وہ راز ہے کہ جب یہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سینے میں ودیعت کیا گیا توآپ انبیا کے بعد تمام مخلوق سے افضل ہو گئے۔ بہترین مقام کے حامل رازوں بلکہ تمام اَسرار کے کئی درجات ہیں ۔ مجاہدات کی جتنی زیادہ کثرت ہو گی اور دل جس قدر غیرِ خدا سے خالی اور نور یقین سے منور ہو گابلند مقام بھی اسی تفاوت کے اعتبار سے کم یا زیادہ حاصل ہو گا۔ اس مقام میں درجات کا فرق بھی بالکل علمِ طب وفقہ اور بقیہ دیگر علوم میں فرق کی طرح ہوتا ہے۔ کیونکہ لوگوں میں ریاضت اور ذہانت وفطانت کاایک فطری تفاوت پایاجاتا ہے اور علمی درجات کی طرح ان اسرارکے بھی کئی درجات ہیں ۔