نہیں بلکہ قرآن،تفسیر، حدیث ،شروحات کا مطالعہ اور عبادات کی پابندی کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ جب دلائل وبراہین قرآنیہ اس کی سماعتوں کو چھوئیں گے، احادیث ِکریمہ سے عقائد ِ اہل سنت کی تائیدات وثبوت ملیں گے اوراس کے ساتھ ساتھ عبادت پر ہمیشگی کا نوراپنے جلوے دکھائے گا تواس کے قلب وذہن میں عقائد ِ اہل سنت راسخ ہوتے چلے جائیں گے۔ اسی طرح نیک لوگوں کی زیارت وصحبت، ان کے ملفوظات اور ان کی للہیت پر مبنی ظاہری و باطنی یکساں پاکیزگی وعاجزی کی برکت سے بھی عقائد ِ اہل سنت پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔ لہٰذا ابتدامیں سمجھانا گویا سینے کی کھیتی میں عقیدے کا بیج بونے اور مذکورہ اسباب (یعنی قراٰن وحدیث کا مطالعہ اور نیکی اور نیکوں سے لگاؤ) اس کھیتی کی سیرابی اور دیکھ بھال کے مترادف ہیں ۔ حتی کہ یہ بیج نشوونما اور تقویت پاکر ایک ایسے مضبوط،بلند اور پاکیزہ درخت کی سی حیثیت اختیار کر جاتا ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک بلند ہوتی ہیں ۔
ایک احتیاط:
یہاں ایک احتیاط کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تربیت کے مراحل میں مناظرانہ گفتگو اور علمِ کلام کی پیچیدہ ابحاث سے بالکل دور رکھا جائے کیونکہ نوعمر کے لئے مناظرانہ گفتگو میں تربیت واصلاح جیسے فوائد کم اور فساد واضطراب جیسے نقصان کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ بلکہ بچے کی تربیت مناظرے کے ذریعے کرنا ایسا ہی ہے جیسے درخت کو مضبوط کرنے کی اُمید پر لوہے کے ہتھوڑے سے کوٹنا، اس عمل کے تسلسل سے درخت مضبوط تو کیا؟ الٹاٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ اس طرح کے کاموں کا عموماً یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ اب مزید وضاحت ودلائل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی یہ عمومی مشاہدہ ہی بات سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
اگر عام نیک ومتقی لوگوں کے عقیدے کی پختگی کا تقابل مناظرین ومتکلمین کے عقیدے کی پختگی سے کیاجائے توعقیدے کے اعتبار سے عام آدمی بلند و مضبوط پہاڑ کی مانند مستقل نظر آئے گا جسے آفات اور بجلیاں اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں جبکہ عقلی دلائل اور مناظروں کے ذریعے اپنے عقیدے کی حفاظت کرنے والے علم کلام کے ماہر شخص کا عقیدہ فضا میں لٹکے ہوئے دھاگے کی طرح ہوتا ہے جسے ہوا کے جھونکے کبھی ادھر کردیتے ہیں کبھی ادھر۔ مگر ان سے عقیدے کی دلیل