اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔(۱)
اہلسنّت کی پہچان:
ذکرکردہ تمام عقائد احادیث ِ مبارَکہ میں بیان کئے گئے ہیں اوراقوالِ صحابہ بھی ان پر شاہد ہیں ۔ لہٰذا جس شخص کا ان سب عقائد پر یقینی اعتقاد ہے، وہ اہلِ حق واہلِ سنت میں سے ہے گمراہوں اور بدعتیوں سے بے تعلُّق ہے ۔ ہم بارگاہِ ربُّ العزَّت میں اپنی ذات بلکہ ہرمسلمان کے لئے ملتجی ہیں کہ وہ اپنی رحمت ِ کاملہ سے ہم سب کو یقینِ کامل کی دولت اور دین اسلام پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔ بے شک وہی سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ ہمارے آقا ومولیٰ محمد ِمصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ہر پسندیدہ بندے پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتیں نازل ہوں ۔
دوسری فصل: مرحلہ وار رہنما ئی کرنے کی وجہ اورا عتقا د کے
درجا ت کا بیان
جان لیجئے! عقیدے کے باب میں ذکر کردہ باتیں بچے کو شروع سے ہی سکھا دی جائیں تاکہ وہ انہیں اچھی طرح ذہن نشین کرلے اور بڑا ہونے تک بتدریج ان کے معانی ومطالب پر مطلع ہوتا رہے۔ کیونکہ ان چیزوں کو اوّلاً یاد کرنا اور سمجھنا ہوتا ہے اس کے بعدان پر یقین کرنے،ایمان لانے اور انہیں سچ جاننے کا مرحلہ آتا ہے۔بچے کاعقائد کو یاد کرنے سے سچ جاننے تک کا ارتقائی(ترقی پزیر) سفر بلادلیل وحجت کے طے ہوجاتا ہے اور اللّٰہتبار ک وتعالیٰ کا یہ بہت بڑا فضل ہے کہ وہ قلب ِ انسانی کو تربیت کے ابتدائی مراحل میں بغیر ِ دلیل وحجت کے قبولِ ایمان کی توفیق عطافرماتا ہے۔نیز اس بات کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے جبکہ عوام کے تمام عقائد کی ابتدا محض تلقین وتقلید ہے۔ہاں ! وہ اعتقادی مسائل جن کا حصول محض تقلید سے ہوتا ہے،ابتداء ً ان میں کچھ ضعف محسوس ہوتا ہے وہ اس طرح کہ اگر اس عقیدے کے خلاف کوئی بات آجائے تو عین ممکن ہے کہ بندہ اپنے سابقہ عقیدے سے دور ہوجائے ،جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نو عمر اور عام افراد کا ذہن عقائد ِ اہل سنت کے حوالے سے اس طرح پختہ اور مضبوط بنادیا جائے کہ وہ پھر کبھی بھی نہ ڈگمگائے اور بچے وعام آدمی کے ذہن میں عقائد کو پختہ اور ثابت کرنے کے لئے فن مناظرہ اور علم کلام سیکھناضروری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، الحدیث:۳۶۷۳، ج۲، ص۵۲۲۔