پوچھا جائے گا۔(۱)
مومن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا:
اس بات پرایمان لانا بھی ضروری ہے کہ جہنم میں داخل ہونے والے مسلمانوں کو ان کے کئے کی سزا دینے کے بعد وہاں سے نکال لیا جا ئے گا کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے کوئی بھی صاحب ایمان ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا۔(۲)
عقیدہ ٔ شفاعت:
شفاعت پرایمان رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس کا اذن سب سے پہلے انبیا ئے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیا جائے گا، پھر علما ،پھر شہدا اور پھر عام مؤمنین کو ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے اِذنِ شفاعت حاصل ہوگا۔(۳) پھر وہ مؤمنین کہ جنہیں کسی کی شفاعت نہ ملی،انہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے جہنم سے نکالے گا بلکہ جس کے دل میں ذرّہ بھر بھی ایمان ہوگا اسے بھی دوزخ سے چھٹکارا عطا فرما دے گا اس لئے کہ مومن ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا۔
صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور ان کا مقام ومرتبہ:
ہر بندے کو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور ان کی بالترتیب فضیلت کا بھی اعتقاد رکھنا ضروری ہے اور یہ کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد لوگوں میں سے افضل ترین امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق، پھرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظم، پھر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی، پھر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہیں (۴) نیزتمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا لازم ہے اور ان نفوسِ قدسیہ کی تعریف وتوصیف اسی طرح بیان کرے جس طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب قول النبی…الخ، الحدیث:۸۶۴، ج۱، ص۳۲۹۔
2…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ، الحدیث:۱۸۲، ص۱۱۱۔
3…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکر الشفاعۃ، الحدیث:۴۳۱۳، ج۴، ص۵۲۶۔صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ، الحدیث:۱۸۳، ص۱۱۴۔
4…صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، الحدیث:۳۶۵۵، ج۲، ص۵۱۸۔فتح الباری، کتاب فضائل اصحاب النبی، تحت الحدیث:۳۶۵۵، ج۸، ص۱۴۔۱۵۔