Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
307 - 1087
 اس کے ساتھمحمدرسول اللّٰہپر ایمان لانے کو نہ ملایاجائے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق پر لازم کردیا کہ وہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمورِ دنیا و آخرت کے متعلِّق دی ہوئی خبروں کو سچا جانیں نیزآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے موت کے بعد پیش آنے والے احوال کی جو خبریں دیں جب تک بندہ ان پر ایمان نہ لائے گا مومن نہیں کہلائے گا۔
منکر نکیرکے سوالات:
	ان احوال میں سے ایک منکر نکیر کا سوال کرنا ہے۔(۱) یہ دونوں ڈراؤنی اور ہیبت ناک انسانی شکل میں تشریف لاتے اور بندے کو قبر میں سیدھا بٹھا دیتے ہیں ۔ اس وقت بندہ جسم وروح دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھروہ بندے سے توحید ورسالت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تیرا ربّ کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اورتیرا نبی کون ہے؟ یہ دونوں فرشتے قبرکی آزمائش ہیں (۲) اور بندے کے لئے بعد موت پہلی آزمائش منکر نکیر کے سوالات کا سامنا کرنا ہے۔بندے پر لازم ہے کہ وہ عذابِ قبر کو حق جانے اور اس پر یقین رکھے(۳)اور جسم وروح دونوں پراللّٰہ ربُّ العزَّت کا اپنی مشیت کے مطابق حکم نافذ کرنا عدل پر مبنی ہے۔
میزانِ عمل:
	بندے پریقین رکھنا ضروری ہے کہ میزان حق ہے۔ ’’اس کے دو پلڑے اور ایک زبان ہے۔‘‘ (۴) اس کے ایک پلڑے کی وسعت زمین وآسمان کے طبقات جتنی ہے۔ اس میں قدرتِ الٰہی سے لوگوں کے اَعمال تولے جائیں گے۔ اس دن رائی کے دانوں اور ذرّوں تک کو باٹ بنا کرکمالِ عدل وانصاف کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ نیک اعمال کو اچھی صورت عطا کرکے میزان کے نورانی پلڑے میں رکھا جائے گا اور وہ پلڑا بفضلِ الٰہی ان اعمال پرمقرَّر کردہ درجوں کے مطابق بھاری ہو جائے گا اور برے اَعمال قبیح صورت میں میزان کے کالے پلڑے میں پھینکے جائیں گے اور وہ پلڑاربِّ لم یَزَل کے عدل کے سبب ہلکا پڑ جائے گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی عذاب القبر، الحدیث:۱۰۷۳، ج۲، ص۳۳۷۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص، الحدیث:۶۶۱۴، ج۲، ص۵۸۱۔
3…السنن الکبری للنسائی، کتاب صفۃ الصلاۃ، الحدیث:۱۲۳۱، ج۱، ص۳۸۹۔
4…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن العباس، الحدیث:۲۹۲۷، ج۱، ص۶۸۳، باختصارٍ۔