ظاہر کرنے کے لئے کائنات کی تخلیق فرمائی اس وجہ سے کہ وہ ازل میں اس کی تخلیق کا ارادہ فرما چکا تھا ، یہ وجہ نہیں کہ اسے اس کی کوئی ضرورت وحاجت تھی۔
وہ مخلوق کو پیدا کرے، بنائے اور انہیں مکلَّف ٹھہرائے تو یہ محض اس کا فضل ہے، اس پرضروری و لازم نہیں ۔ اسی طرح وہ اپنی مخلوق کو انعامات سے نوازے اور ان کی اصلاح کرے تویہ اس کی مہربانی ہے، اس پر لازم نہیں ۔وہی فضل واحسان اور انعام واکرام فرمانے والا ہے۔وہ بندوں کوطرح طرح کے عذابات میں مبتلا کرنے اور انہیں مختلف مصائب وآلام سے دوچار کرنے پر قادر ہے۔ اگر وہ ایسا کرے بھی تو یہ اس کی طرف سے برائی یا ظلم نہیں بلکہ عدل ہی عدل ہے۔اپنے مومن بندوں کو نیکیوں کا اچھاصلہ دینامحض اس کے کرم و وعدے کے مطابق ہے ورنہ نہ توبندے اس کے مستحق ہیں اورنہ ہی اس پر ایسا کرنا لازم ہے کیونکہ کسی کی وجہ سے کوئی فعل کرنا اس پر واجب نہیں اور کسی کا اس پر کچھ حق بھی نہیں اور ظلم کی نسبت تو اس کی طرف کر ہی نہیں سکتے۔
اس نے انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واسطے سے بندوں پراپنا حق بصورتِ طاعت لازم کیا ۔ محض عقل کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا پھر ان کے صدق کو ظاہر وباہر معجزات کے ذریعے ثابت کیا اور انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ربُّ الانام کے احکام ، اس کی منع کردہ چیزوں اور اس کے وعدہ ووعید کا پیغام خلق تک پہنچایا۔اب بندوں پر لازم ہے کہ وہ ان نفوسِ قدسیہ کے لائے ہوئے پیغام کو سچاجانیں ۔
کلمۂ شہادت کے دوسرے جز کی وضاحت
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی گواہی دینا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے غیب کی خبریں دینے والے، کسی آدمی سے نہ پڑھنے والے اور قبیلۂ قریش سے تعلق رکھنے والے حضرت سیِّدُنامحمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عرب وعجم کے تمام علاقہ جات اورجن و انس میں سے ہر ایک کی جانب پیغامِ رسالت دے کر مبعوث فرمایا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے سوائے ان باتوں کے جنہیں باقی رکھنا مقصود تھا سابقہ تمام شرعی اَحکام شریعت ِمحمدی لاکر منسوخ فرما دئیے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فضیلت دے کربنی آدم کا سردار بنایا اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہپر اعتقاد رکھنے کو اس وقت تک قبول نہ فرمایا جب تک کہ