کلامِ الٰہی :
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کلام فرمانے والا، حکم دینے والا، منع کرنے والا اور وعدہ ووعید فرمانے والا ہے۔ کلام، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ قائم اَزَلی وقدیم صفات میں سے ایک صفت ہے۔ اس کا کلام، مخلوق کے کلام کے مشابہ نہیں ۔ اس کا کلام ہوا کے اندر سے یا اجسام کی رگڑ سے پیدا ہونے والی آواز نہیں نیزاس کا کلام کرنا ہونٹوں کے ملنے اور زبان کے حرکت کرنے کا بھی محتاج نہیں ۔ قرآن،توریت، زبوراور انجیل اس کے رسولوں پر نازل ہونے والی اس کی کتابیں ہیں ۔ قرآنِ پاک زبانوں سے پڑھا جاتا، اوراق پر لکھا جاتا اور دلوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ کلامِ پاک قدیم اور ذاتِ الٰہی کے ساتھ قائم ہے۔ اسے اَوراق پر لکھنے یادلوں میں محفوظ کرنے سے ایسا نہیں کہ یہ ذاتِ الٰہی سے جدا یا الگ ہو گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام بغیر آواز اورحروف کے سماعت فرمایا۔ یوں ہی نکوکاروں کو جنت میں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا دیدار بھی اس طرح ہوگا کہ وہ نہ جو ہر ہوگا نہ عرض۔
وہ ان صفات سے متصف ہے تو محض ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ حیات، قدرت، علم، ارادہ، سماعت، بصارت اور کلام کی وجہ سے زندہ، عالِم، قادر، ارادہ کرنے والا، سننے اور دیکھنے والا اور کلام فرمانے والا ہے۔
افعالِ الٰہیہ:
سوائے ذات باری تعالیٰ کے ہرشے کا وجود اسی کے فعل اوراسی کے فیضانِ عدل سے ہے۔وہ سب چیزوں کا وقوع نہایت اچھے، کامل، مکمل اور مناسب طریقے پر فرماتا ہے۔ اس کے تمام اَفعال واَحکام حکمت وعدل پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس کے عدل وانصاف کو بندوں کے عدل وانصاف پر قیاس نہیں کیا جائے گاکیونکہ بندے سے ظلم ہو سکتا ہے اس طرح کہ جب وہ غیر کی مِلک میں تصرُّف کرے گا تو ظالم کہلائے گاجبکہ مالک ِ دوجہاں عَزَّوَجَلَّ سے ظلم ہونا متصور ہی نہیں کیونکہ اُس کے سوا کسی کی ملک ہے ہی نہیں چہ جائیکہ اس میں تصرُّف یا ظلم کیا جائے۔ سوائے اس کی ذات کے جو بھی ہے جنّ وانسان،فرشتہ وشیطان،زمین وآسمان،حیوان وبے جان ،سبزہ ،جوہر وعرض،سمجھی اور محسوس کی جانے والی تمام کی تمام معدوم اشیاء کو اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے وجود بخشا اور نیست(یعنی غیر موجود) کو ہست (یعنی موجود) فرمایا۔ وہ اَزَل میں موجود تھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ پھر اس نے اپنے ارادے کو ثابت کرنے اور اپنی قدرت کو