Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
304 - 1087
وسوسوں اور پوشیدہ باتوں سے باخبر ہے۔ اس کا علم ایسا نہیں کہ اس کی ذات میں حلول وانتقال سے نوپید ہو۔
 ارادۂ خداوندی :
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی تخلیق کائنات کا ارادہ فرمانے والا اور نوپید چیزوں کی تدبیر فرمانے والا ہے۔ عالم بالا ہو یا عالمِ دنیا اس کا ہر تھوڑ اوزیادہ، چھوٹا وبڑا، اچھا وبرا، نفع و نقصان، کفر وایمان، علم وجہالت، کامیابی وناکامی،کمی وبیشی اور طاعت ومعصیت ذاتِ باری تعالیٰ ہی کی قضاوقدرت اور حکمت ومشِیَّت سے ہے۔ اس نے جو چاہا وہ ہوا جو نہ چاہا نہ ہوا۔ حتی کہ پلک کی جھپک اور دل کی کھٹک تک مشیت ِالٰہی سے خارج نہیں بلکہ وہی نئے سرے سے پیدا کرنے والا، دوبارہ زندہ کرنے والااورجب جو چاہے کرنے والا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں جو اس کے امر میں رکاوٹ بنے یااس کے فیصلے کو ٹال سکے ۔بندے کا اس کی نافرمانی سے بچنا یا اس کی عبادت پر کمربستہ ہونااس کی توفیق ورحمت اور اس کے ارادے و مشیت سے ہی ممکن ہے۔اگر تمام جن وانس اور ملائکہ وشیاطین مل کر مشیت ِ خداوندی کے بغیر کائنات کے محض ایک ذرّے کو ہی حرکت دینا یا ٹھہرانا چاہیں تو ایسا نہیں کر سکتے۔ اس کا ارادہ تمام صفات سمیت اس کی ذات سے قائم اور ہمیشہ سے ان اوصاف کے ساتھ متصف ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جن اشیاء کو جن اوقات میں پیدا کرنے کا ازل میں ارادہ فرمایا، وہ سب چیزیں ازلی ارادہ ٔ خداوندی کے عین مطابق بغیرکسی تقدیم وتاخیر اور بلا کسی تغیر وتبدل کے اپنے مقررہ وقت وحالت میں وجود میں آ گئیں ۔ اس کے کاموں کی تدبیر سوچ بچاراور وقت کا انتظار کرنے سے منز ہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک کام اسے دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا۔
سمیع وبصیر:
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سمیع وبصیر ہے۔ وہ سنتا دیکھتا ہے۔ کوئی بھی سنی جانے والی چیزکیسی ہی مخفی ہو اور کوئی بھی چیز خواہ کتنی ہی باریک ہو اس کی سماعت و بصارت سے غائب ومخفی نہیں ہو سکتی۔ دوری وتاریکی اس کی سماعت وبصارت میں خلل نہیں ڈال سکتی۔ جس طرح وہ علم کے لئے دل کا، گرفت کے لئے عضو کا اور تخلیق کے لئے آلہ جات کامحتاج نہیں بالکل اسی طرح دیکھنے اورسننے کے لئے آنکھوں اور کانوں کا محتا ج نہیں کیونکہ جس طرح اس کی ذات مخلوق کے مشابہ نہیں اسی طرح اس کی صفات بھی مخلوق کی صفات کی مثل نہیں ۔