Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
303 - 1087
 ہے۔جس طرح کوئی زمانہ اسے نہیں گھیرسکتااسی طرح وہ کسی مکان میں بھی نہیں سماسکتابلکہ وہ مکان وزمان کی تخلیق سے بھی پہلے کاموجودہے اور اب بھی پہلے کی طرح ہی ہے۔ اپنی جمیع صفات سمیت مخلوق سے ممتاز ہے۔ نہ تواس کی ذات میں کوئی دوسرا ہے اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کی ذات میں ہے۔ وہ بدلنے ،منتقل ہونے اور حوادث وعوارض کے لاحق ہونے سے منزہ ومبرا ہے۔ وہ اپنی بزرگ وبرتر صفات کے ساتھ دائمی طور پر متصف اور فنا سے پاک ہے۔ اس کی صفاتِ کمالیہ مزید کمال پانے سے مستغنی ہیں ۔ذات باری تعالیٰ کا وجود عقل سے بھی جاناجاسکتاہے۔ نیک لوگ اس کے فضل وکرم سے جنت میں اس کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور دیدارِ الٰہی سے ہی اس کی عطا کردہ نعمتیں پایۂ تکمیل کو پہنچیں گی۔
صفات باری تعالٰی
حیات وقدرت:
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ زندہ، قادرمطلق، غالب اور عظمت والا ہے۔ کوتاہی وعاجزی سے ورا ہے۔ اسے نہ اُونگھ آئے نہ نیند۔  اس کے لئے فنا ہے نہ موت۔ملکوت و ملک اور عزت و عظمت کا مالک ہے ۔ حقیقی بادشاہت و اقتدار والا ہے ۔ پیدا کرنااور حکم دینا سب اسی کے اختیار میں ہے۔ تمام آسمان اور جمیع مخلوق اسی کے تحت قدرت ہے۔ وہ تخلیق وایجاد اور بے مثل اشیاء پیدا کرنے میں یکتاولاشریک ہے۔مخلوق ،اس کے اعمال کی تخلیق اور ان کے لئے رزق وموت کی تعیین فرمانے والا ہے ۔ کسی بھی شے کا وجود اور معاملات میں تصرُّفات اس کے اختیار سے باہر نہیں نیزاس کے تحت ِ قدرت اشیاء کا شمار اور ان کی معلومات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔
علم الٰہی:
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمام معلومات کا عالم ہے۔ زمین کی گہرائیوں سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک ہونے والے تمام معاملات اس کے احاطے میں ہیں ۔ وہ ایسا عالم ہے کہ زمین وآسمان کی ذرّہ بھر چیز بھی اس سے پنہاں نہیں بلکہ اندھیری رات میں صاف چٹان پر سیاہ چیونٹی کے چلنے کی آواز اور فضا میں بکھرے ذرّات کی حرکات کو بھی جانتا ہے۔ اسے ظاہر وپوشیدہ ہر چیز کا علم ہے۔ اپنی قدیم اَزَلی اور ہمیشہ سے ہمیشہ رہنے والی صفت ِ علم سے دل میں اُبھرنے والے خطروں ،