Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
302 - 1087
کلمۂ شہادت کے پہلے جزعقیدۂ توحید کی وضاحت
ہرعیب ونقص سے پاک ذات:
	اللّٰہ سُبْحَانُہٗ وَتَعَالٰیجسم وجسمانیت سے پاک ہے۔ وہ متناہی اور قسمت کے تابع جوہر نہیں ۔ وہ جسم کی مثل نہیں کیونکہ اجسام تو ایک حد میں محدود اور قابلِ تقسیم ہوتے ہیں ۔نہ تووہ جوہر ہے نہ عرض (۱) اور نہ ہی جواہر وعوارض اس میں حلول کئے ہوئے ہیں ۔نہ تووہ کسی موجودکے مشابہ ہے اور نہ ہی کوئی موجود اس کے مشابہ۔(بلکہ قرآنِ مجید میں ہے:)
لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ ۚ(پ۲۵،الشورٰی:۱۱)			  ترجمۂ کنز الایمان: اس جیسا کوئی نہیں ۔
	 اور نہ ہی وہ کسی جیسا ہے۔ وہ مقداروں میں شمار ہونے اور کناروں وسمتوں میں احاطہ کئے جانے سے یوں پاک ہے کہ زمین وآسمان بھی اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی شایان شان اور اپنے فرمان وارادے کے مطابق عرشِ عظیم پر استوا فرمائے ہوئے ہے۔اس کا استوا چھونے، جائے گیر ہونے، جائے پذیر ہونے،کسی چیز میں حلول کرنے اور منتقل ہونے سے منزہ ہے۔ عرش اسے نہیں اٹھاتا بلکہ عرش وحاملینِ عرش کا قیام اس کی قدرت ولطف کا محتاج اور ان سب کا نظام اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہ تحت الثری کی گہرائیوں ،آسمان کی وسعتوں اور عرش کی بلندیوں سے بلند تر ہے۔ اس کی اِس بلندی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زمین وتحت الثری سے دُور اور ان کی نسبت عرش وآسمان سے قریب ہے بلکہ وہ زمین وتحت الثری سے جس طرح بلند وعظمت والا ہے اسی طرح عرش وآسمان سے بھی عظیم ترہے۔ لیکن ان تمام تر بلندیوں اورعظمتوں کے باوجود وہ ہر موجود شے کے قریب اور انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۴۷﴾ (پ۲۲،السبا:۴۷)	ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
	جس طرح اس کی ذات اجسام کی مانند نہیں ، اسی طرح اس کا قرب بھی عام طور پر ایک جسم کے دوسرے جسم کے قریب ہونے کی طرح نہیں ۔ نہ وہ کسی شے میں حلول (۲)کئے ہوئے ہے اور نہ ہی کوئی شے اس میں حلول کئے ہوئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…اہلسنّت کے نزدیک: جو ہر سے مراد وہ جز ہے جو تقسیمنہ ہوسکے اور عرض وہ ہے جو بذات خود قائم نہ رہ سکتا ہو بلکہ کسی محل کا محتاج ہو ۔ (الحدیقۃ الندیۃ،ج ۱،ص۲۴۷)
2…حلول یعنی ایک چیز کا دوسری چیز میں اس طرح داخل ہو جانا کہ دونوں میں تمیز نہ ہوسکے۔(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۱۳۱)