Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
301 - 1087
عقائد کا بیان
	قوائد عقائد کابیان چار فصلوں پر مشتمل ہے:
پہلی فصل:		پہلے اسلامی رکن کلمۂ شہادت کے متعلق
عقیدۂ اہلسنّت کی وضاحت
	اس فصل میں عقائد ِاہلسنّت میں سے اس عقیدے یعنی کلمۂ شہادت کے متعلِّق وضاحت کی گئی ہے کہ جس کا اقراروتصدیق پہلا اسلامی رکن ہے۔
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاکردہ توفیق سے میں کہتا ہوں کہ سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جوپیدا کرنے والا، دوبارہ زندہ کرنے والا، جو چاہے کرنے والا، عرش کا مالک عزت والا، سخت گرفت فرمانے والا، اپنے پسندیدہ بندوں کو صراطِ مستقیم اور درست طرزِ عمل کی طرف ہدایت دینے والا، شک وتردد کی اندھیریوں سے اپنے عقائد کو بچا کراقرارِ توحید پر جم جانے والوں پر انعام فرمانے والا،اپنے فضل وکرَم سے اپنے پسندیدہ بندوں کو محمد ِمصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت اور معززومشرف صحابۂ کرام  رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشنے والا ہے۔ اپنے پسندیدہ بندوں پراپنی ذات وافعال کوان عمدہ اوصاف کے ذریعے روشن فرماتاہے کہ جن کا ادراک وہی کرسکتاہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتا اور بارگاہ میں حاضر رہتاہے اور وہ انہیں اپنی ذات کی معرفت بھی عطافرماتاہے کہ وہ ایک ہے اس کاکوئی شریک نہیں ،یکتاہے اس کی کوئی نظیرنہیں ،بے نیازہے کوئی اس کے جوڑ کا نہیں ، تنہاہے کوئی اس کاہم رتبہ نہیں ، واحد و قدیم ہے کہ اس سے پہلے کسی چیز کا وجود نہ تھا، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہ اس کی ابتدا ہے اور نہ ہی انتہا، بذاتِ خود قائم اوراوروں کاقائم رکھنے والاہے۔ اس کاکوئی اختتام نہیں ، وہ باقی اور غیرفانی ہے۔ اس کے لئے انجام وزوال نہیں ۔ اس کی ذات بزرگی پر دلالت کرنے والی صفات سے متصف ہے۔ زمانے گزرتے اور دن رات ختم ہوتے جائیں گے لیکن اس کی ذات نہ ختم ہونے والی ہے، نہ ٹوٹنے والی بلکہ اس کی شان یہ ہے:
ہُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ ۚوَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾   (پ۲۷،الحدید:۳)
 ترجمۂ کنز الایمان: وہی اوّل وہی آخر وہی ظاہروہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے ۔