Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
300 - 1087
	رہا نورِ بصیرت کہ جس کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت اور اس کے رسولوں کی صداقت نصیب ہوتی ہے تو اس کی برائی ومذمت کا تصور کیسے ممکن ہے حالانکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی تعریف فرمائی ہے اگر اس کی مذمت کی جائے تو پھر کس چیز کی تعریف کی جائے گی؟ جب شریعت قابلِ تعریف ہے تو شریعت کی صحت کا علم کیسے حاصل ہوگا؟ اگر شریعت کی صحت کا علم عقل کے ذریعے ہو جو خود مذموم ہے اور اس پر یقین نہیں ہے تو شریعت بھی مذموم ہوگی۔نیزجو کہتا ہے کہ اس (یعنی شریعت)کا ادراک یقین کی آنکھ اور نورِ ایمان سے ہوتا ہے نہ کہ عقل کے ذریعے تواس کی طرف توجہ نہ کی جائے کیونکہ ہمارے نزدیک بھی عقل، عَیْنُ الْیَقِیْن اور نورِ ایمان کی مراد ایک ہی ہے اور وہ باطنی صفت ہے جس کے ذریعے انسان جانوروں سے ممتاز ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے ذریعے وہ ہر چیز کی حقیقت کو پالیتا ہے۔
	اس قسم کے اکثر مغالطے ان لوگوں کی جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو حقائق کو الفاظ سے تلاش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مغالطے میں پڑتے جاتے ہیں کیونکہ الفاظ میں لوگوں کی اصطلاحات مغالطوں کا شکار ہیں ۔ عقل کے بیان میں اتنا ہی کافی ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے۔
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد اوراس کے فضل سے علم کا بیان مکمل ہوا۔ ہمارے سردار حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور زمین وآسمان کے ہر منتخب بندے پر رحمت ہو۔

وَالْـحَــــمْدُ لِلّٰـہِ وَحْـدَ ہٗ اَ وَّ لًا وَّ اٰخِراً

٭…٭…٭…٭…٭…٭

{…تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہ		اَسْتَغْفِرُاللّٰہ…}
{…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}