مختلف صورتیں ہیں کہ بعض جگہ پانی جمع ہوتا اور اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ خود بخود چشموں کی صورت میں پھوٹ نکلتا ہے، بعض مقامات پر کنواں کھودنے کی ضرورت پیش آتی ہے تا کہ وہ نالیوں کی طرف نکلے جبکہ بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جہاں کھودائی کا بھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور وہ خشک جگہ ہوتی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ صفات کے اعتبار سے زمین کے جواہر مختلف ہیں ۔ اسی طرح قوتِ عقلیہ کے اعتبار سے انسانی نفوس بھی مختلف ہیں نقلی دلائل کے اعتبار سے عقل کے مختلف ہونے پر یہ حدیث دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ،
عرش سے بڑھ کر عظمت والی چیز:
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے طویل حدیث مروی ہے۔ اس کے آخر میں عرش کی عظمت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ فرشتوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: ’’اے ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ! کیا تو نے عرش سے بڑی چیز بھی کوئی پیدا کی ہے؟‘‘ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں ! وہ عقل ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’اس کی قدر ومنزلت کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’رہنے دو، اس کے علم کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، کیا تمہیں ریت (کے ذرات) کی تعداد کا علم ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’نہیں ۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے ریت (کے ذرات) کی تعداد کی مثل عقل کو مختلف قسموں میں پیدا کیا ہے۔ بعض لوگوں کو ایک ذرّہ دیا گیا، بعض کو دو ، بعض کو تین اورچار، بعض کو ایک فرق (ایک پیمانہ جس میں آٹھ سیر غلہ آتا ہے)، بعض کو وسق (60صاع غلہ) اور بعض کو اس سے بھی زیادہ دیا گیا۔‘‘ (۱)
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم پوچھو کہ ان لوگوں کا کیا حال ہے جو صوفی بنے بیٹھے اور عقل ومعقول کی برائی بیان کرتے ہیں ؟تو یاد رکھئے! اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے مجادلہ ومناظرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر اعتراضات اور الزامات لگانے کا نام عقل رکھ لیا ہے اور یہ فن کلام کے سبب ہے اور لوگ اس پر قادر نہیں کہ انہیں بتائیں کہ تم نے نام رکھنے میں خطا کی ہے کیونکہ یہ نام ان کی زبانوں پر جاری اور دلوں میں یوں راسخ ہوگیاکہ اب ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا لہٰذا انہوں نے عقل ومعقول کی برائی بیان کرنا شروع کردی اور ان کے نزدیک یہی عقل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اتحاف الخیرۃ المھرۃ، باب ماجاء فی العقل، الحدیث:۷۰۶۷، ج۷، ص۳۷۴، بتغیرٍقلیلٍ۔