Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
298 - 1087
	ذہین: وہ ہوتا ہے جو ادنیٰ اشارے سے سمجھتا ہے۔
	کامل: وہ ہوتاہے کہ تعلیم دیئے بغیر بھی اس سے حقائق امور کا ظہور ہوجاتا ہے۔ جیسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ (پ۱۸،النور:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان: قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے، نور پر نور ہے۔
	اور یہ انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفت ہے کیونکہ سیکھنے اور سننے کے بغیر بھی ان کے باطن میں نہایت باریک اور پوشیدہ امور روشن ہوجاتے ہیں اور اسے الہام کہا جاتا ہے۔
	حضور نبی ٔ پاک،صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس ارشادِ گرامی میں یہی بات بیان فرمائی کہ حضرت جبرئیل عَلَـیْہِ السَّلَام نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ ’’جس سے محبت کرنا چاہتے ہیں محبت کریں بے شک آپ اس سے جدا ہونے والے ہیں اور جب تک چاہتے ہیں زندہ رہیں بالآخر آپ انتقال فرمانے والے ہیں اور جو چاہیں عمل کریں آپ کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘  (۱)
	اور فرشتوں کی طرف سے نبیوں کو اس طرح کی خبر دینا وحی صریح کے خلاف ہے جو کان کے ذریعے سنی جاتی اور آنکھوں سے فرشتے کو دیکھا جاتا ہے اسی لیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے دل میں ڈالنے (الہام) سے تعبیر فرمایا۔ وحی کے درجات بہت زیادہ ہیں اور ان میں بحث کرنا علم معاملہ کے لائق نہیں بلکہ اس کا تعلق علم مکاشفہ سے ہے اور تمہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وحی کے درجات، منصب وحی کو دعوت دیتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ طبیب بیمار کو صحت کے درجات سکھا دے اور عالم کسی فاسق کو عدالت کے درجات کی تعلیم دے اگرچہ وہ فاسق ان درجات سے ناواقف ہو۔ لہٰذا علم کچھ اور چیز ہے اور کسی معلوم چیز کاوجود کچھ اور۔پس ہر وہ شخص جو نبوت اور ولایت کی پہچان رکھتا ہو نبی یا ولی نہیں ہوسکتا اور نہ ہی تقویٰ وپرہیزگاری اور ان کی باریکیوں کو جاننے والا متقی ہوسکتا ہے۔
	خلاصہ: لوگوں کی تقسیم یوں ہے کہ ایک وہ شخص ہے جو ذاتی طور پر آگاہ ہوتا اور سمجھتا ہے۔ دوسرا وہ ہے کہ جو کسی کے آگاہ کرنے اور سکھانے کے بغیر نہیں سمجھتا اور تیسراوہ ہے کہ جسے تعلیم وتنبیہ بھی فائدہ نہیں دیتی جس طرح زمین کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزھد وقصرالامل، الحدیث:۱۰۵۴۳، ج۷، ص۳۴۹، بتغیرٍقلیلٍ۔