Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
297 - 1087
وہ قوتِ عقلیہ کو مضبوط کرتا ہے۔ فرق اس چیز میں ہوتا ہے جس کی طرف یہ نام لوٹتا ہے اور بعض اوقات صرف قوتِ عقلیہ میں فرق کی وجہ سے تفاوت ہوتا ہے جب یہ قوت مضبوط ہوگی تو یقینا شہوت کو زیادہ ختم کرنے والی ہوگی۔
	تیسری قسم جو تجرباتی علوم سے متعلق ہے اس میں لوگوں کا مختلف ہونا ناقابلِ انکار ہے کیونکہ وہ بات تک زیادہ پہنچنے اوراسے جلد از جلد پانے کے اعتبار سے مختلف ہیں اور اس کا سبب یا توعقلی قوت میں فرق ہوتا ہے یا تجربہ میں فرق اس کا باعث بنتا ہے۔
	 پہلی قسم یعنی قوتِ عقلیہ اور یہی اصل ہے۔ اس اعتبار سے بھی انسانوں میں تفاوت کا انکار نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ایک نور کی مثل ہے جو نفس پر چمکتا ہے اور اس کی صبح طلوع ہوتی ہے اور اس کے چمکنے کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ (یعنی بچہ اشیاء میں ) تمیز کرنے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے پھر وہ مسلسل پرورش پاتا اور اس کی نشوونما میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ خفیہ طور پر تدریجاً بڑھتا ہے یہاں تک کہ یہ (نور) 40سال کی عمر کے قریب کامل ہوجاتا ہے اور یہ صبح کی روشنی کی مانند ہوتا ہے کیونکہ وہ شروع میں اس قدر مخفی ہوتی ہے کہ اس کا ادراک مشکل ہوتا ہے پھر تدریجاً بڑھتی ہے یہاں تک کہ سورج کی ٹکیہ کے طلوع ہونے کے ساتھ مکمل ہوجاتی ہے۔
	نورِ بصیرت میں فرق آنکھوں کی روشنی میں فرق کی طرح ہے کمزور بینائی اور تیز بینائی والے کے درمیان فرق محسوس ہوتا ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو تدریجاً پیدا کرنے کا طریقہ جاری فرمایا ہے حتی کہ شہوانی قوت بچے کے بالغ ہوتے ہی اس میں اچانک اور یکدم ظاہر نہیں ہوتی بلکہ تدریجاً تھوڑی تھوڑی ظاہر ہوتی ہے اسی طرح تمام قوتیں اور صفات تدریجاً ظاہر ہوتی ہیں اور جو شخص اس قوت میں لوگوں کے درمیان تفاوت کا انکار کرتا ہے گویا وہ عقلی قوت سے خالی ہے اور جو یہ خیال کرے کہ حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عقل مبارَک کسی دیہاتی اور جنگلوں میں رہنے والے گنواروں کی عقل کی طرح ہے تو وہ توکسی دیہاتی سے بھی زیادہ خسیس ہے وہ قوتِ عقلیہ میں تفاوت کا کیسے انکار کرسکتا ہے کیونکہ اگر یہ فرق نہ ہوتا تو علوم کے سمجھنے میں لوگوں کے مختلف درجات نہ ہوتے اور کند ذہن، ذہین اور کامل میں ان کی تقسیم نہ ہوتی۔
	کند ذہن: وہ ہوتا ہے جو سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتا حتی کہ اساتذہ کو اس پر بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔