تیسری فصل: عقل کے اعتبارسے انسانی نفوس میں تفاوت
عقل میں فرق کے بارے میں بھی لوگوں کی آرا مختلف ہیں لیکن کم علموں کا کلام نقل کرنے کا کیا فائدہ بلکہ سب سے بہتر اور اہم بات واضح حق کی طرف جلد ی کرنا ہے اس سلسلے میں واضح حق یہ ہے کہ دوسر ی قسم ’’جو جائز چیزوں کے جواز اور محا لات کے محال ہونے سے متعلق ضروری علم ہے‘‘ کے علا وہ عقل کی تمام اقسام میں فرق ہے کیونکہ جو یہ جانتا ہے کہ دو ایک سے زیادہ ہوتے ہیں یقینا یہ بات بھی اس کے علم میں ہے کہ ایک جسم ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر موجود نہیں ہوسکتا اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی چیز قدیم بھی ہو اور حادث بھی۔ اس طرح دیگر مثالیں اور وہ امور بھی ہیں جن کا ادراک کسی شک کے بغیر ٹھیک ٹھیک ہوتا ہے لیکن تین اقسام میں فرق پایا جاتا ہے۔
چوتھی قسم جو یہ ہے کہ ’’خواہشات کو ختم کرنے کے لئے قوت کا حاصل ہونا‘‘ اس میں لوگوں کے درمیان تفاوت پوشیدہ نہیں بلکہ اس میں ایک شخص کی مختلف حالتوں میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ فرق کبھی خواہش میں فرق کے باعث ہوتا ہے کیونکہ عقل مند شخص بعض خواہشات کو چھوڑنے پر قادر ہوتا ہے اور بعض کو نہیں لیکن ان کا چھوڑنا مشکل نہیں ہوتا۔ نوجوان کبھی زنا کو چھوڑنے سے عاجز ہوتا ہے لیکن جب بڑا ہوجاتا اور اس کی عقل کامل ہوجاتی ہے تو وہ اس پر قادر ہوجاتا ہے جبکہ ریاکاری اور اقتدار کی خواہش بڑھاپے کی وجہ سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔کبھی اس کا سبب اس علم کا تفاوت ہوتا ہے جو شہوت کی خرابی سے روشناس کراتا ہے۔
عقل کا لشکر اور سامان جہاد:
اسی لئے طبیب بعض نقصان دہ کھانوں سے بچنے پر قادر ہوتا ہے لیکن بعض اوقات غیرطبیب عقل میں اس طبیب کے برابر ہونے کے باوجود اس پر قادر نہیں ہوتا اگرچہ وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ نقصان دہ ہے لیکن چونکہ طبیب بااعتبار علم زیادہ کامل ہوتا ہے اس لئے اس کا خوف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا خوف خواہشات کا قلع قمع کرنے کے لئے عقل کا لشکر اور سامانِ جہاد ہے۔ یونہی عالم گناہوں کو چھوڑنے پر جاہل سے زیادہ قادر ہوتا ہے کیونکہ وہ گناہوں کے نقصانات کا زیادہ علم رکھتا ہے اس سے مراد حقیقی عالم ہے علمائے دنیا اور بیہودہ گفتگو کرنے والے مراد نہیں اوراگر خواہش کے اعتبار سے تفاوت ہو تو وہ عقل کا تفاوت نہیں اور اگر وہ علم کی وجہ سے ہے تو ہم نے اس قسم کے علم کا نام عقل بھی رکھا ہے کیونکہ