دل کا اندھا پن زیادہ نقصان دہ ہے:
نابیناشخص جب گھر میں داخل ہوتا اور گھر میں ترتیب سے رکھے ہوئے برتنوں کی وجہ سے گر جاتا ہے تو کہتا ہے کیا وجہ ہے کہ ’’برتنوں کو ترتیب سے ایک جگہ کیوں نہیں رکھا جاتا۔‘‘ تو اسے کہا جاتا ہے: ’’یہ اپنی جگہ پر ہیں خرابی تو تمہاری آنکھوں میں ہے۔‘‘ بصیرت کی خرابی بھی اس کی طرح ہوتی ہے بلکہ اس سے زیادہ بڑی ہوتی ہے کیونکہ نفس سوار کی طرح اور جسم سواری کی مانندہے اور سوار کا اندھا ہونا سواری کے اندھے پن سے زیادہ نقصان دہ ہے اس وجہ سے کہ باطنی بصیرت ظاہری بصیرت کے مشابہ ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾ (پ:۲۷،النجم:۱۱) ترجمۂ کنزالایمان: دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (پ۷،الانعام:۷۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔
اور اس کی ضد کو اندھا پن قرار دیا۔ چنانچہ، ارشاد فرمایا:
فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ﴿۴۶﴾(پ۱۷،الحج:۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا:
وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا﴿۷۲﴾(پ۱۵،بنی1 اسرا1ء یل:۷۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اورجو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اور بھی زیادہ گمراہ۔
یہ امور انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے واضح کئے گئے ان میں سے بعض کا تعلق ظاہری بصیرت سے اور بعض کا باطنی بصیرت سے ہے اور ان سب کو رویت (دیکھنا) کہا گیا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جس شخص کی باطنی نگاہ کامل نہ ہو اسے دین سے صرف چھلکے اور مثالیں حاصل ہوتی ہیں دین کا مغز اور حقائق حاصل نہیں ہوتے۔ یہ وہ اقسام ہیں جن پر لفظ ِ عقل کا اطلاق کیا جاتاہے۔