Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
294 - 1087
 (ا)…وہ جس نے منہ پھیرا اور (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو) بھلا دیا یہ کافر ہے۔ (۲)…وہ جس نے اپنے خیال کو دوڑایا تو یاد آگیا ۔یہ اس شخص کی طرح ہے جو گواہ بنا پھر غفلت کی وجہ سے بھول گیا لیکن بعد میں اسے یاد آگیا۔ اسی لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ﴿۲۲۱﴾٪ (پ۲،البقرۃ:۲۲۱)		ترجمۂ کنزالایمان: کہ کہیں وہ نصیحت مانیں ۔
	ایک جگہ ارشاد فرمایا:
وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴿۲۹﴾ (پ۲۳، ص:۲۹)	ترجمۂ کنزالایمان: اور عقل مند نصیحت مانیں ۔
	ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَمِیۡثَاقَہُ الَّذِیۡ وَاثَقَکُمۡ بِہٖۤ ۙ  (پ۶،الما1ئدۃ:۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو اللّٰہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔
	ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾(پ۲۷،القمر:۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اوربے شک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لئے آسان فرما دیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔
	اور اس طریقے کو تذکُّر (یعنی یاد کرنا) کہنا کوئی تعجب خیز بات نہیں ۔ گویا یاد آنے کی دو صورتیں ہیں :
(۱)… وہ اس صورت کو یاد کرے جس کا وجود اس کے دل میں حاضر تھا لیکن پائے جانے کے بعد غائب ہوگیا اور (۲)… وہ اس صورت کو یاد کرے جو فطرت کے ضمن میں وہاں پائی جاتی ہے اور یہ حقائق دیکھنے والے کو نورِ بصیرت سے نظر آتے ہیں لیکن اس شخص پر بھاری ہوتے ہیں جس کا تکیہ تقلیداور سماعت ہو، کشف اور مشاہدہ کرنا نہ ہو اسی لئے تم دیکھو گے کہ وہ اس قسم کی آیات میں دیوانہ پن اختیار کرتا ہے اور تذکُّر اور نفوس کے اقرار کے سلسلے میں دور از کار تاویلات نکالتا ہے نیز احادیث اور آیات کے سلسلے میں اس کے ذہن میں اس طرح کے خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں بلکہ بعض اوقات یہ بات اس پر غالب آجاتی ہے تو وہ ان کی طرف حقارت کی نظر سے دیکھتا اور ان میں تضاد سمجھتا ہے۔اس کی مثال:نابینا شخص جیسی ہے۔