Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
293 - 1087
(یعنی عقل) ان سب پر بولا جاتا ہے۔ پہلی قسم کے علاوہ کسی کے وجود میں کوئی اختلاف نہیں اور صحیح یہ ہے کہ تمام اقسام پائی جاتی ہیں اور یہی اصل ہے۔ جبکہ یہ علوم گویا فطرتاً اس قوتِ عقلیہ میں ضمناً پائے جاتے ہیں لیکن وجود میں اس وقت پائے جاتے ہیں جب کوئی ایسا سبب جاری ہو جو انہیں وجود کا جامہ پہنائے۔ یہ علوم کوئی ایسی چیز نہیں جو باہر سے وارد ہوئی ہے گویا وہ اس قوتِ عقلیہ میں موجود تھے اب ظاہر ہوگئے۔ اس کی مثال زمین میں پانی کا موجود ہونا ہے جو کنواں کھودنے سے ظاہر اور جمع ہوتا اور قوتِ حسیہ کے ذریعے ممتاز ہوجاتا ہے یہ بات نہیں کہ اس کی طرف کسی نئی چیز کو لایا گیا ہے۔ اسی طرح بادام میں روغن اور گلاب میں عرق ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں ارشادِ خداوندی ہے:
وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ (پ۹،الاعراف:۱۷۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے ربّ نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا ربّ نہیں سب بولے کیوں نہیں ۔
	فائدہ:اس سے مراد ان کے نفوس کا اقرار ہے نہ کہ زبانوں کاکیونکہ زبانوں کے اقرار کے اعتبار سے اقرار کرنے والے اور منکرین میں ان کی تقسیم اس وقت ہوئی جب ان کی زبانوں اور اشخاص کو پیدا کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
  وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنْ خَلَقَہُمْ لَیَقُوۡلُنَّ اللہُ(پ۲۵،الزخرف:۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تم ان سے پوچھو کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے اللّٰہ نے۔
	اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کے احوال کا اعتبار کیا جائے تو ان پر ان کے نفوس اور باطن گواہی دیں گے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا (پ۲۱،الروم:۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔
	فائدہ:یعنی ہر شخص کو ایمان بِاللّٰہ پر پیدا کیا گیا ہے بلکہ ہر چیز کو ماہیت کی معرفت پر پیدا کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ گویا اس کے اندر یہ معرفت رکھی گئی ہے کیونکہ اس کی استعداد ادراک کے قریب ہے۔ پھر جب فطرتاً نفوس میں ایمان کو رکھا گیا ہے تو اس اعتبار سے لوگوں کی دو اقسام ہیں :