Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
292 - 1087
بھی یہی مراد ہے۔ چنانچہ، ارشاد فرمایا: ’’اے ابودردائ! اپنی عقل  میں اضافہ کرو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں زیادہ مقرب بن جاؤ گے۔‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر میرے ماں باپ قربان! میں ایسا کس طرح کر سکتا ہوں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حرام کردہ کاموں سے اجتناب اور فرائض کو پاپندی سے ادا کرتے رہو عقل مند ہوجاؤ گے۔ اچھے اعمال اختیار کرو دنیا میں تمہیں بلند رتبہ ملے گا اور عزت میں اضافہ ہوگا جبکہ آخرت میں ربّ عَزَّوَجَلَّکا قرب نصیب ہوگا اور عزت حاصل ہوگی۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق، حضرت سیِّدُنا اُبی بن کعب اور حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں سے زیادہ علم والا کون ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو عقل مند ہے۔‘‘ عرض کی: ’’زیادہ عبادت گزار کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’جو عقل مند ہے۔‘‘ عرض کی: ’’سب سے زیادہ فضیلت والا کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’جو عقل مند ہے۔‘‘ عرض کی: ’’کیا عقل مندوہ ہے جس کی باطنی صفات مکمل ہوں ، فصاحت ظاہر، ہاتھ سخی اور مقام عظیم کا مالک ہو؟‘‘ تو حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کے اسباب ہیں اور آخرت تمہارے ربّ کے پاس پرہیزگاروں کے لئے ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’عقل مند وہ ہے جو متقی ہے اگرچہ دنیا میں بظاہر ذلیل ورسوا ہو۔‘‘  (۲)
	ایک روایت میں ہے کہ ’’بے شک عقل مند وہ ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لایا، اس کے رسولوں کی تصدیق اور اس کی فرمانبرداری کی۔‘‘  (۳)
	خلاصہ:مناسب یہ ہے کہ اس قوت کا اصل نام لغت اور استعمال کے اعتبار سے ہو اور علوم پر اس کا اطلاق اس وجہ سے ہو کہ وہ اس کے ثمرات ونتائج ہیں جیسے کسی چیز کی پہچان اس کے (نتیجہ اور) ثمرہ سے ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے علم خشیَّت ِالٰہی کا نام ہے اور عالم وہ ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے کیونکہ خشیَّت علم کا نتیجہ ہے تو اس (عقلی) قوت کے غیر پر عقل کا اطلاق مجازاً ہوگا لیکن لغت سے بحث کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ یہ چاروں اقسام موجود ہیں اور یہ نام 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اتحاف الخیرۃ المھرۃ، باب ماجاء فی العقل، الحدیث:۷۰۷۰، ج۷، ص۳۷۵۔
2…المرجع السابق، الحدیث:۷۰۳۶، ص۳۶۵۔		
3…المرجع السابق، الحدیث:۷۰۵۸، ص۳۷۱۔