Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
291 - 1087
والی شہوت کونیست ونابود کردے۔‘‘ جب کسی کویہ قوت حاصل ہوجائے تو اسے عقل مند کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا کسی چیز کی طر ف بڑھنا اور اس سے رکنا انجام پر نظر کے مطابق ہوتا ہے فوری شہوت کی وجہ سے نہیں ۔ یہ بھی انسان کے ان خواص میں سے ہے جن کی وجہ سے وہ تمام حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے۔
	پہلا معنی بنیاد اور منبع ہے، دوسرا معنی اس کی فرع ہے جو اس کے زیادہ قریب ہے، تیسرا معنی پہلے اور دوسرے کی فرع ہے کیونکہ فطری قوت اور علومِ ضروریہ کی بنیاد پر تجرباتی علوم حاصل ہوتے ہیں اور چوتھا معنی آخری نتیجہ ہے اور یہی مقصود ہے۔ پہلے دو فطری اور طبعی طور پر حاصل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے دو عمل اور اکتساب سے حاصل ہوتے ہیں اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:
رَاَیْتُ الْعَقْلَ عَقْلَیْنِ		فَمَطْبُوْعٌ وَمَسْمُوْعٌ
وَلَا یَنْفَعُ مَسْمُوْعٌ		اِذَا لَمْ یَکُ مَطْبُوْعٌ
کَمَا لَا تَنْفَعُ الشَّمْسُ		وَضَوْءُ الْعَیْنِ مَمْنُوْعٌ
	ترجمہ:(۱)میں نے عقل کو دو صورتوں میں دیکھا ایک فطری اور دوسری سنی ہوئی۔
	(۲)اور سنی ہوئی اس وقت تک فائدہ نہیں دیتی جب تک فطری عقل موجود نہ ہو۔
	(۳)جیسے سورج کی روشنی اس وقت تک فائدہ نہیں دیتی جب تک آنکھوں کی روشنی نہ ہو۔
	نبیوں کے سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشادِ گرامی کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں فرمائی جو اس کے نزدیک عقل سے زیادہ معزز ہو۔‘‘ (۱) سے عقل کی پہلی قسم مراد ہے۔
	اور اس ارشادِ گرامی کہ ’’جب لوگ مختلف قسم کی نیکیوں اور اعمال صالحہ کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کریں تو تم اپنی عقل کے ذریعے قرب حاصل کرو۔‘‘ (۲) سے آخری قسم مراد ہے۔
عقل مند کی پہچان:
	حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے جو کچھ فرمایا اس سے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفردات الفاظ القرآن للراغب، کتاب العین، ص۵۷۸۔
2…حلیۃ الاولیاء، مقدمۃ المصنف، الحدیث:۳۲، ج۱، ص۵۰، بتغیرٍقلیلٍ۔