Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
290 - 1087
 زندگی برابر ہے۔‘‘ اور یہ بھی کہا جائے گا کہ ’’ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں البتہ یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عادتِ مبارکہ کے مطابق گدھے میں مخصوص حرکات پیدا کرتا ہے۔‘‘ اگر گدھے کو بے جان پتھر تصوُّر کیا جائے تو یہ کہنا لازمی ہوگا کہ ’’اس سے جو حرکت نظر آتی ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے نظر آنے والی ترتیب سے پیدا کرنے پر قادر ہے۔‘‘ تو جیسے یہ کہنا ضروری ہے کہ گدھے کا حرکات میں جمادات سے ممتاز ہونا اس خاص قوت کی بنیاد پر ہے جس کا نام زندگی ہے تواسی طرح انسان بھی علومِ نظریہ میں حیوانات سے ایک خاص قوت کے ذریعے ممتاز ہوتا ہے اور وہ عقل ہے۔ یہ اس شیشے کی مانند ہے جو صورتوں اور رنگوں کو دکھانے میں ایک خاص صفت کے ذریعے دوسرے اجسام سے جدا ہے اور وہ صفت اس کا صاف شفاف اور روشن ہونا ہے۔ اسی طرح آنکھ اپنی صفات اور شکل کے اعتبار سے جو اسے دیکھنے کے قابل کرتی ہیں پیشانی سے ممتاز ہے۔ لہٰذا اس قوت (یعنی عقل ) کی علوم کی طرف نسبت ایسے ہی ہے جیسے آنکھ کی دیکھنے کی طرف اور علوم کی وضاحت کے سلسلے میں قرآن وشریعت کی اس قوت کی طرف نسبت اس طرح ہے جیسے سورج کی روشنی کو آنکھوں کے نور سے۔ لہٰذا اس قوت کواسی طرح سمجھنا چاہئے۔
{2}…عقل سے مراد وہ علوم ہیں جو سمجھ دار بچے کی ذات میں پائے جاتے ہیں کہ وہ جائز چیزوں کو جائز اور محال چیزوں کو محال سمجھتا ہے۔ مثلاً وہ جانتا ہے دو ایک سے زیادہ ہوتے ہیں اور ایک شخص ایک ہی وقت دو جگہوں میں نہیں ہوسکتا۔ بعض متکلمین نے عقل کی تعریف کرتے ہوئے جو مندرجہ ذیل بات کہی ہے اس سے ان کا مطلب بھی وہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : عقل بعض بدیہی علوم ہیں جیسے جائز چیزوں کے جواز اور محال اشیاء کے محال ہونے کا علم۔(۱) یہ بھی فی نفسہٖ صحیح تعریف ہے کیونکہ یہ علوم موجود ہیں اور انہیں عقل کہنا بھی ظاہر ہے البتہ اس قوت کا انکار کرنا اور یوں کہنا کہ صرف علوم بدیہی ہی موجود ہیں ، فاسد خیال ہے۔
{3}…وہ علوم جو حالات کی تبدیلی سے تجربہ کی بنیاد پر حاصل ہوں ۔ کیونکہ جس شخص کو تجربات سمجھ دار اور مذاہب مہذب بنا دیں اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عادت میں عقل مند ہے اور جو اس سے موصوف نہ ہو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ شخص کند ذہن، ناتجربہ کار اور جاہل ہے تو یہ علوم کی ایک اور قسم ہے جسے عقل کہا جاتا ہے۔
{4}…’’یہ قوت اس حد تک پہنچ جائے کہ معاملات کے انجام کی پہچان حاصل ہوجائے اور لذت کی طرف بلانے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…البحر المحیط فی اصول الفقہ، مقدمات اصول الفقہ، ج۱، ص۶۶۔