دوسری فصل: عقل کی حقیقت اوراس کی اقسام
یادرکھو! عقل کی تعریف اور اس کی حقیقت میں لوگوں کا اختلاف ہے اور اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ عقل کا نام مختلف معانی پر بولا جاتا ہے۔ یہی بات ان کے اختلاف کا سبب بنی اور اس میں خفا کو زائل کرنے والی حق بات یہ ہے کہ عقل کا اطلاق مشترکہ طور پرچارمعانی پر ہوتا ہے جس طرح لفظ عین چند معانی پر بولا جاتا ہے اور وہ الفاظ جو اس کی مثل ہیں اس لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کی تمام اقسام کے لئے ایک تعریف تلاش کی جائے بلکہ ہر قسم کی الگ الگ وضاحت کی جائے گی۔ چنانچہ،
عقل کے چار معانی:
{1}…’’عقل ایک ایسا وصف ہے جس کے ذریعے انسان تمام جانوروں سے ممتاز ہوتا ہے۔‘‘ اسی کے ذریعے اس میں علومِ نظریہ قبول کرنے اور چھپی ہوئی فکری صنعتوں کی تدبیر کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت سیِّدُنا حارث بن اسد محاسبی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے عقل کی جو تعریف بیان کی ہے اس سے ان کی مراد یہی ہے۔ انہوں نے عقل کی تعریف اس طرح بیان فرمائی: ’’یہ ایک فطری قوت ہے جس کے ذریعے علومِ نظریہ کا اِدراک کیا جاتا ہے گویا یہ ایک نور ہے جو دل میں ڈالا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اشیاء کے ادراک کے لئے تیار ہوتا ہے۔‘‘ (۱) جو اس بات کا انکار کرتا اور عقل کو صرف ضروری اور بدیہی علوم کی طرف پھیرتا ہے وہ انصاف نہیں کرتا کیونکہ علوم سے غافل اور سوئے ہوئے شخص کو چونکہ یہ قوت حاصل ہوتی ہے اسی لئے اسے عقل مند کہا جاتا ہے حالانکہ علوم ضروریہ اس وقت موجود نہیں ہوتے۔ جس طرح زندگی ایک قوت ہے جس کے ذریعے جسم اختیاری حرکات اور حسی ادراکات کے لئے تیار ہوتا ہے اسی طرح عقل بھی ایک فطری قوت ہے جس کے ذریعے بعض حیوانات نظری علوم کے قابل ہوجاتے ہیں ۔ اگر اس فطری قوت اور حسی اِدراکات میں انسان اور گدھے کے درمیان مساوات(برابری) مان کر کہا جائے کہ ’’ ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں صرف یہ کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عادتِ مبارکہ کے مطابق انسان میں علوم کو پیدا کرتا ہے جبکہ گدھے اور دوسرے جانوروں میں پیدا نہیں کرتا۔‘‘ تو یہ کہنا بھی جائز ہوگا کہ ’’ گدھے اور جمادات (پتھر وغیرہ) کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…ذمّ الھوی، الباب الاوّل فی ذکرالعقل…الخ، ص۱۹، بتغیرٍقلیلٍ۔