’’اے عائشہ! لوگ اس عقل کے مطابق ہی تو عمل کرتے ہیں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں عطا فرمائی تو ان کے اعمال ان کی عقلوں کے مطابق ہی ہوتے ہیں اور انہیں ان کے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘ (۱)
{12}…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ آقائے دوجہاں ، محبوب رحمن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر چیز کا ایک آلہ ہوتا ہے اور مومن کا آلہ عقل ہے۔ ہر چیز کی ایک سواری ہوتی ہے اور آدمی کی سواری عقل ہے۔ ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے اور دین کا ستون عقل ہے۔ ہر قوم کی ایک غایت ہوتی ہے اور عابدوں کی غایت عقل ہے۔ ہر قوم کا ایک داعی ہوتا ہے اور عبادت گزاروں کا داعی عقل ہے۔ ہر تاجر کا ایک سرمایہ ہوتا ہے اور مجتہدین کا سرمایہ عقل ہے۔ تمام گھر والوں کا ایک منتظم ہوتا ہے اور صدیقین کے گھر کی منتظم عقل ہے۔ ہر ویرانی کی آبادی ہوتی ہے اور آخرت کی آبادی عقل ہے۔ ہر شخص کا ایک جانشین ہوتا ہے جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی اور اسی کی وجہ سے اسے یاد کیا جاتا ہے اور صدیقین کی جانشین عقل ہے جس کی طرف ان کی نسبت کی جاتی اور اسی کی وجہ سے انہیں یاد کیا جاتا ہے اور ہر سفر کا ایک خیمہ ہوتا ہے اور مسلمانوں کا خیمہ عقل ہے۔‘‘ (۲)
{13}…مسلمانوں میں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کے لئے تیار رہے، اس کے بندوں کی خیرخواہی کرے، اس کی عقل کامل ہو، اپنے نفس کو نصیحت کرے، اس کی نگرانی کرے اور وہ عقل کے ذریعے اپنی زندگی میں عمل کرکے فلاح وکامیابی پاتا ہے۔ (۳)
{14}…تم میں سے عقل کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ ہے جو سب سے زیادہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا اور اَوامر ونواہی کو سب سے زیادہ جانتا ہو اگرچہ نوافل میں تم میں سب سے کمتر ہو۔ (۴)
{…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۸۷، ج۷، ص۳۱۰۔
2…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۸۸، ج۷، ص۳۱۰، بتغیرٍقلیلٍ۔
3…تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ، کتاب المبتدأ، الحدیث:۱۲۸، ج۱، ص۲۲۱، باختصارٍ۔
4…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۹۳، ج۷، ص۳۱۳۔