{8}…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضور نبی ٔ رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کثیر سوالات کئے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! ہر چیز کی ایک سواری ہوتی ہے اور آدمی کی سواری عقل ہے اور تم میں سے رہنمائی اور حجت کی پہچان میں سب سے عمدہ وہ ہے جو بااعتبارِعقل تم میں سب سے افضل ہے۔‘‘ (۱)
{9}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب رسولِ انور، شافع محشرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوہ احد سے واپس تشریف لائے تو لوگوں کو کہتے سنا کہ فلاں فلاں سے زیادہ بہادر ہے اور فلاں زیادہ تجربہ کار ہے جب تک فلاں تجربہ کار نہ ہوجائے تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تمہیں اس بات کا علم نہیں ۔ ‘‘لوگوں نے عرض کی: ’’تو پھر کیسا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے لئے جو عقل مقدر فرمائی انہوں نے اس کے مطابق جہاد کیا، ان کی مدد ونصرت اور ان کی نیت ان کی عقلوں کے مطابق تھی، ان میں سے بعض کو مختلف مرتبے حاصل ہوئے۔ بروز قیامت وہ اپنی نیتوں اور عقلوں کے مطابق مراتب پائیں گے۔‘‘ (۲)
{10}…حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’فرشتوں نے عقل کے مطابق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں جدو جہد کی اور بنی آدم میں مسلمانوں نے اپنی عقلوں کے مطابق کوشش کی تو ان میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا زیادہ مطیع وفرمانبردار وہ ہوگا جو ان میں زیادہ عقل والا ہوگا۔‘‘ (۳)
{11}…ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دنیا میں لوگ ایک دوسرے سے کس وجہ سے افضل ہوتے ہیں ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’عقل کی وجہ سے۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’اور آخرت میں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’عقل کے سبب۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’کیا انہیں ان کے اعمال ہی کا بدلہ نہیں دیا جائے گا؟‘‘ ارشاد فرمایا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۸۰۳، ج۷، ص۳۱۸، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۸۰۴۔ ج۷، ص۳۱۸۔
3…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۹۲، ج۷،ص۳۱۲۔