ہلاکت سے بچاتی ہے۔ جب تک آدمی کی عقل کامل نہ ہو تب تک نہ تواس کا ایمان کامل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا دین درست ہوتا ہے۔‘‘ (۱)
{5}…انسان اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے رات میں قیام کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے کے درجے کو پا لیتا ہے اور کسی بھی آدمی کے اچھے اخلاق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتے جب تک اس کی عقل کامل نہ ہو اور جب اس کی عقل کامل ہوجاتی ہے تو اس کا ایمان کامل ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرتا اور اپنے دشمن شیطان کی نافرمانی کرتا ہے۔ (۲)
{6}…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے اور مسلمان کا ستون اس کی عقل ہے۔ اس کی عبادت اس کی عقل کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ فساق وفجار جہنم میں کہیں گے:
لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیۡۤ اَصْحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۰﴾ (پ۲۹،الملک:۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔‘‘ (۳)
{7}…منقول ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: ’’تم میں سرداری کس کی ہے ؟‘‘ عرض کی: ’’عقل کی۔‘‘ تو امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’تم نے سچ کہا میں نے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بھی پوچھا تھا جیسے تم سے پوچھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہی فرمایا جو تم نے جواب دیا اور حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا تھا کہ میں نے حضرت جبرئیلعَلَـیْہِ السَّلَام سے پوچھا: ’’سرداری کس کی ہے؟‘‘ تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا: ’’عقل کی۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۸۰۷، ج۷، ص۳۲۲۔
2…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۸۵، ج۷، ص۳۰۹۔
مسند الحارث، باب ماجاء فی العقل، الحدیث:۸۲۳، ج۳، ص۳۴۱ ۔
المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث:۲۵۵۹۴، ج۹، ص۵۵۵، باختصارٍ۔
3…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۹۶، ج۷، ص۳۱۴۔
4…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۷۹۵، ج۷، ص۳۱۴۔