Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
285 - 1087
 خسارہ پانے والوں میں سے ہیں ۔(۱)
{2}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا فرمایا پھر اس سے فرمایا: ’’آگے آ تو وہ آگے ہوگئی۔‘‘ پھر فرمایا: ’’پیچھے جا تو وہ پیچھے چلی گئی۔‘‘ پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو میرے نزدیک تجھ سے زیادہ معزز ہو، میں تیرے ہی سبب سے پکڑ کروں گا اور تیرے ہی سبب عطا کروں گا، تیری ہی وجہ سے ثواب دوں گا اور تیرے ہی سبب عذاب دوں گا۔‘‘  (۲)
ایک سوال اور اس کاجواب:
	اگر عقل عرض ہے تو اسے اجسام سے پہلے کیسے پیدا کیا گیا اور اگر جوہر ہے تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جوہر قائم بنفسہٖ ہو اورکسی جگہ کو گھیرے ہوئے نہ ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس بات کا تعلق علم مکاشفہ سے ہے اور علم معاملہ میں اسے ذکر کرنا مناسب نہیں اور اس وقت ہمارا مقصد علم معاملہ کو بیان کرنا ہے۔
{3}…حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : کچھ لوگوں نے بارگاہِ رِسالت میں ایک شخص کی بہت زیادہ تعریف کی تو رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: ’’اس کی عقل کیسی ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کی: ’’ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے عبادت میں اس کی کوشش اور اس کی مختلف نیکیوں کا تذکرہ کررہے ہیں اور آپ ہم سے اس کی عقل کے بارے میں استفسار فرمارہے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’بے وقوف اپنی جہالت کی وجہ سے بدکار سے زیادہ برائی کرلیتا ہے اور کل بروزِ قیامت بارگاہِ ربُّ الْعُلٰی میں قرب کے درجات پر لوگ اپنی عقلوں کے مطابق فائز ہوں گے۔‘‘(۳)
{4}…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ عقل کی فضیلت کی مثل نہیں کماتا، عقل صاحب عقل کو ہدایت دیتی اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المطالب العالیۃ، کتاب العقل لداود بن المحبر، الحدیث:۲۷۹۰، ج۷، ص۳۱۱۔
2…اللائی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ، کتاب المبتدأ، ج۱، ص۱۲۰، بتغیرٍقلیلٍ۔
فردوس الاخبار، باب الالف، الحدیث:۴، ج۱، ص۲۹۔
3…المطالب العالیۃ، من کتاب العقل لداود بن المحبر…الخ، الحدیث:۲۸۰۵، ج۷، ص۳۱۹۔