{عقل کی فضیلت و عظمت میں وارد4فرامین باری تعالیٰ}
اللّٰہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن نے عقل کا نام نور رکھا ہے۔ چنانچہ، ارشاد فرمایا:
{۱}اَللہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصْبَاحٌ ؕ(پ:۱۸،النور:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ نور ہے زمین وآسمان کا اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق۔
علم جو عقل سے حاصل ہوتا ہے اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے روح، وحی اور حیات قرار دیا۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{۲}وَکَذٰلِکَ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ؕ (پ۲۵،الشورٰی:۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی ایک جان فزا چیزاپنے حکم سے۔
ایک جگہ فرمایا:
{۳} اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحْیَیۡنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمْشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ (پ۸،الانعام:۱۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کیا وہ کہ مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے۔
نورو ظلمت کے ذکر سے مراد علم اور جہالت ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
{۴} یُخْرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۬ؕ (پ۳،البقرۃ:۲۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان: انہیں اندھیریوں سے نورکی طرف نکالتا ہے۔
{عقل کی فضیلت و عظمت میں وارد14فرامین مصطفٰے}
{1}…اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات کو سمجھو اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی تلقین کرو یوں جن کے کرنے کا حکم دیا گیا اور جن سے منع کیا گیا انہیں جان جاؤ گے۔ یادرکھو! عقل تمہارے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک تمہارے درجات بلند کرتی ہے اور جان لو! عقل مند وہ ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرے اگرچہ صورت میں اچھا نہ ہو، کمتر ہو، اس کی کوئی قدر ومنزلت نہ ہو اور پرا گندہ حال ہو جبکہ جاہل وہ ہے جو ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرے اگرچہ خوبصورت ہو، بڑی شان وشوکت کا مالک ہو، اچھی حالت اور قدر ومنزلت رکھتااور فصیح گفتگو کرتا ہو۔ پس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بندر اور خنزیر اس کے نافرمان سے زیادہ عقل مند ہیں ، اس بات سے دھوکا نہ کھانا کہ دنیادار اس کی تعظیم کرتے ہیں کیونکہ وہ تو خود