باب نمبر7: عقل،اس کی عظمت،حقیقت
اوراَقْسام کا بیان
پہلی فصل: عقل کی عظمت
یادرکھئے! عقل کی عظمت کو بیان کرنے میں تکلف کی ضرورت نہیں بالخصوص جبکہ علم کی فضیلت عقل کی وجہ سے ظاہر ہے اور عقل علم کا منبع، مطلع اور بنیاد ہے۔ علم کی نسبت عقل سے ایسی ہے جیسے پھل کی درخت سے، روشنی کی سورج سے اور دیکھنے کی آنکھ سے تو وہ چیز عظمت والی کیوں نہ ہو جو دنیا و آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہے۔ نیز اس میں کیسے شک کیا جاسکتا ہے جبکہ جانور اپنے سوجھ بوجھ کی کمی کے سبب عقل سے شرماتا ہے یہاں تک کہ سب سے بڑے جسم والا، سب سے زیادہ نقصان دینے والا اور سب سے زیادہ خوفناک جانور بھی جب انسان کو دیکھ لیتا ہے تو گھبرا کر بھاگ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان اس پر غلبہ پا لے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی خاصیت ہے کہ وہ حیلوں کو جانتا ہے۔
بوڑھے شخص کو فضیلت کیوں حاصل ہے؟
حضور اکرم، نورِ مجسمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بوڑھا شخص اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے نبی اپنی امت میں ۔‘‘ (۱)
اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے پاس مال کی کثرت ہوتی ہے۔ وہ عمر رسیدہ ہوتا ہے یا اس کو قوت زیادہ حاصل ہوتی ہے بلکہ اس لئے کہ اس کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے جو عقل کا نتیجہ ہے۔ اسی لئے تم دیکھتے ہو کہ ترکی، کردی اور عرب کے بیوقوف بلکہ تمام وہ لوگ بھی جو جانور سمجھے جاتے ہیں فطری طور پر بوڑھوں کی عزت کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دشمن، رسولِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوشہید کرنے کے ارادے سے آئے لیکن جب چہرہ نور بار کا دیدار کیا تو تعظیم وتکریم بجا لائے اور مبارک پیشانی پر نورِ نبوت درخشاں دیکھا اگرچہ وہ حضور سراپا نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دل میں پوشیدہ تھا جیسے عقل پوشیدہ ہوتی ہے۔ الغرض! عقل کی عظمت وفضیلت ایک بدیہی چیز ہے اور ہم محض اس کی فضیلت وعظمت میں وارد شدہ آیات واحادیث کو ذکر کرنا چاہتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المقاصد الحسنۃ، حرف الشین المعجمۃ، الحدیث:۶۰۹، ص۲۶۴۔