Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
282 - 1087
 یہ بات آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس لئے دریافت فرمائی کہ آپ کسی کو اس کا اہل نہیں پاتے تھے۔واقعی آپ نے سچ فرمایا کیونکہ لوگوں سے میل جول رکھنا غیبت کرنے، سننے یا برائی پر خاموش رہنے سے خالی نہیں ہوتا۔
انسان کی بہترین حالت:
	انسان کی بہترین حالت یہ ہے کہ وہ علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے یا خود فائدہ حاصل کرے۔ اگر یہ مسکین غور کرتا اور اس بات کو جانتا کہ اس کا فائدہ پہنچانا ریاکاری کے شائبے، مال ودولت اور ریاست حاصل کرنے کی طلب سے خالی نہیں تو اسے معلوم ہوجاتا کہ فائدہ حاصل کرنے والا بھی اسے طلب ِدنیا کے لئے آلہ اور برائی کے لئے وسیلہ بنا رہا ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں وہ اس کا مددگار ہے اور اس کے لئے اسباب مہیا کرتا اور ڈاکوؤں کو تلوار بیچنے والے کی طرح ہے۔ علم تلوار کی مانند ہے بھلائی کے لئے اسے بہتر بنانا ایسے ہے جیسے جہاد کے لئے تلوار کو درست کرنا اسی لئے کسی ایسے شخص کو تلوار بیچنا جائز نہیں جس کے بارے میں علامات و قرائن سے معلوم ہو کہ وہ ڈاکوؤں کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ 
	علمائے آخرت کی علامات میں سے یہ 12علامتیں ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک اسلاف علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے اخلاق کو جامع ہے۔ پس تم دو شخصوں میں سے ایک ہوجاؤ یعنی یا تو ان صفات کو اپنا لو یا اپنی کوتاہی تسلیم کرلو، تیسرے نہ بننا ورنہ تم پر معاملہ مشتبہ ہوجائے گا اور تم دنیا کے آلہ کو دین سمجھنے لگو گے اور جھوٹوں کی عادات کو علمائے راسخین کی سیرت خیال کرو گے اور یوں اپنی جہالت اور انکار کی وجہ سے تباہ وبرباد اور مایوس لوگوں کے گروہ میں شامل ہوجاؤ گے۔
دُعا:
	 ہم شیطان لعین کے مکرو فریب سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہوئے۔ ہم اللّٰہ مُجِیْبُ الدَّعْوَات سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں سے بنادے جنہیں دنیوی زندگی دھوکا نہیں دیتی اورنہ ہی شیطان انہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حلم پر دھوکادیتا ہے ۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭