Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
281 - 1087
سب سے بڑی معصیت:
	حضرت سیِّدُنا سہل تستری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے بڑی معصیت جہالت سے ناواقف ہونا، عام لوگوں کی طرف دیکھنا اور غافل لوگوں کا کلام سننا ہے۔ جو عالم دنیا میں مشغول رہتا ہے اس کی بات سننا مناسب نہیں بلکہ اس کی ہر بات پر اسے تہمت زدہ جاننا چاہئے کیونکہ ہر شخص اپنی پسندیدہ چیز میں مشغول رہتا ہے اور جو کچھ اس کے محبوب کے موافق نہ ہو اسے رد کردیتا ہے۔‘‘  (۱)
	 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا﴿۲۸﴾ (پ۱۵،الکھف:۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔
	عام گنہگار ان لوگوں سے زیادہ خوش بخت ہے جو دین کے راستے سے بے خبر ہیں حالانکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ علما میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ عام گنہگار شخص اپنی کوتاہی کا اقرار کرکے بخشش طلب کرتا اور توبہ کرتا ہے جبکہ جاہل علم کا مدعی ہے اور یہ ان علوم میں مشغول ہے جو طریق دین کے بجائے حصولِ دنیا کا وسیلہ ہیں لہٰذا نہ تو یہ توبہ کرتا ہے اور نہ ہی مغفرت طلب کرتا ہے بلکہ مرتے دم تک اسی حالت پر رہتا ہے۔ لہٰذا جنہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے محفوظ فرمایا ان کے علاوہ جب یہ بات اکثر لوگوں پر غالب ہے اور ان کی اصلاح کی کوئی امید بھی نہیں رہی تو دیندار محتاط شخص کے لئے سلامتی اسی میں ہے کہ وہ ان سے الگ تھلگ رہے جیسا کہ ’’کِتَابُ الْعُزْلَہ‘‘  (یعنی گوشہ نشینی کے بیان) میں آئے گا۔اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ۔
لوگوں سے زیادہ میل جول باعث ہلاکت ہے:
	حضرت سیِّدُنا یوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے حضرت سیِّدُنا حذیفہ مرعشی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کوخط لکھ کر دریافت کیا کہ ’’آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جسے گنہگار کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جو اس کے ساتھ مل کر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے یا پھر کوئی ایسا شخص تومل جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ذکر کرنا گناہ کا ذریعہ بنتا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱،ص۲۹۸، باختصارٍ۔