لوگ آئیں گے ان سے تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوگی تم ان کے ساتھ جیسے چاہے کھیلنا، ان کی خواہشات کی لگام پکڑ کر جہاں چاہو لے جانا وہ بخشش طلب کریں گے تو ان کی بخشش نہ ہوگی اور وہ توبہ بھی نہیں کریں گے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے۔‘‘
راوی فرماتے ہیں : ’’پہلی صدی کے بعد ایک قوم آئی تو شیطان نے ان میں خواہشات پھیلا دیں اور بدعات کو ان کے لئے مزین کردیا۔ چنانچہ، انہوں نے انہیں حلال سمجھا اور دین بنا لیا نہ تووہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور نہ ہی توبہ کرتے ہیں ۔ لہٰذا ان پر دشمن (یعنی شیطان) غالب ہوگئے اب وہ جہاں چاہتے ہیں انہیں لے جاتے ہیں ۔‘‘
ایک سوال اور اس کاجواب:
اگر تم کہو کہ اس قائل کو کہاں سے معلوم ہوا کہ ابلیس نے یہ بات کہی ہے حالانکہ اس نے نہ تو ابلیس کو دیکھاہے اور نہ ہی اس سے گفتگو کی؟ تو جان لو کہ اہل دل پر ملکوت (یعنی عالم ملائکہ ) کے راز منکشف ہوتے رہتے ہیں کبھی بطورِ الہام ان کے دل میں ڈالے جاتے ہیں اور انہیں معلوم تک نہیں ہوتا، کبھی سچے خواب کے ذریعے اور کبھی بیداری میں ان کے معانی مثالوں کے مشاہدے کے ذریعے واضح کئے جاتے ہیں جیسا کہ خواب میں ہوتا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے اور یہ نبوت کا بلند درجہ ہے جیسے سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے تو تمہیں اس علم کے انکار سے بچنا چاہئے جو تیری ناقص عقل کی حد سے پار ہوگیا اس سلسلے میں مہارت کا دعویٰ کرنے والے علما بھی ہلاک ہوگئے جن کا خیال تھا کہ انہوں نے عقلی علوم کا احاطہ کرلیا ہے۔ اس عقل سے جہالت بہتر ہے جو اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے بارے میں ایسے علوم کا انکار کرے اور جو شخص اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے بارے میں ایسی باتوں کا انکار کرتا ہے اس پر انبیائے کرام عَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا انکار لازم آتا ہے اور وہ دین سے مکمل طور پر نکل جاتا ہے۔
بعض عارفین نے فرمایا: ’’ابدال، لوگوں سے قطع تعلقی کرکے زمین کے مختلف کونوں میں جا بسے ہیں اور وہ جمہور کی آنکھوں سے اوجھل ہوچکے ہیں ۔ کیونکہ ان میں آج کے دور کے علما کو دیکھنے کی ہمت نہیں ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک یہ علما اسرارِ الٰہیہ سے واقف نہیں مگر یہ لوگ خود کو عالم سمجھتے ہیں اور جاہل بھی انہیں ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔ پس یہ (جھوٹے علما اور انہیں علما سمجھنے والے) سب لوگ جاہل ہیں ۔‘‘ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۹۸۔