’’شوافع میں ان کے زمانے کے آخر تک ان کا کوئی مثل نہیں تھا۔‘‘(۱)
{8}…نَیْشاپُور کے رئیس الشافعیہ حضرت سیِّدُنامحمد بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ(متوفی۵۴۸ھ)نے فرمایا:’’امام غزالی امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا کے ثانی ہیں ۔‘‘(۲)
{9}…حضرت سیِّدُنا امام ابن عساکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۵۷۱ھ) فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیجیسا ذہین وفطین آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا۔‘‘(۳)
{10}… سیِّدُنا حافظ ابو الفضل عبدالرحیم عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَاقِی (متوفی۶۰۸ھ)فرماتے ہیں : ’’علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے نزدیک حضرت سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیپانچویں صدی ہجری کے مجدد ہیں ۔‘‘(۴)
{11}… محدث صوفی شیخ ابو العباس اَقْلَشِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاشعارمیں خراج عقیدت یوں پیش کرتے ہیں :
اَبَا حَامِدٍ اَنْتَ الْمُخَصِّصْ بِالْحَمْد وَاَنْتَ الَّذِی عَلَّمْتَنَا سُنَنُ الرُّشْد
وَضَعْتَ لَنَا الْاِحْیَاءَ یُحْیِی نُفُوْسَنَا وَیَنْقَذُنَا مِنْ طَاعَۃِ الْمَارِدِ الْمُرْدِی
ترجمہ: اے امام غزالی !آپ تعریف میں منفردوممتاز ہیں ،آپ نے ہمیں ہدایت کے راستے بتائے ۔
ہمارے لئے اِحْیَاءُ الْعُلُوْم لکھی جو ہماری جانوں کو زندگی دیتی اور ہمیں سرکش ونافرمان کی پیروی سے روکتی ہے۔(۵)
{12}…حضرت سیِّدُنا امام ابو الحسن شاذِلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیسے منقول ہے کہ ’’جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کوئی حاجت ہو وہ امام غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کے وسیلے سے دعاکرے۔‘‘(۶)
{13}… حضرت سیِّدُناامام ذَہَبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی (متوفی۷۴۸ھ) ان القابات سے یاد فرماتے : الشیخ الامام البحر، حجۃ الاسلام، أعجوبۃ الزمان ، زین الدین أبوحامد محمد بن محمد بن محمد بن أحمدالطوسی، الشافعی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…وفیات الاعیان، ج۴، ص۵۸۔
2…طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی، ج۶، ص۲۰۲۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، ج۵۵، ص۲۰۰۔
4…اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۳۵۔
5…مرآۃ الجنان وعبرۃ الیقظان، ج۳، ص ۱۳۷۔
6…مرآۃ الجنان وعبرۃ الیقظان، ج۳، ص ۲۴۹۔