Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
279 - 1087
جس کی طرف بلندی پر جانے والا لوٹ آئے اور پیچھے رہنے والا اس کی طرف بلندی اختیار کرے۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: گمراہ لوگ اپنے دلوں میں گمراہی کی حلاوت محسوس کرتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ ذَرِ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمْ لَعِبًا وَّ لَہۡوًا (پ۷،الانعام:۷۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا۔
	ارشادِ خداوندی ہے:
اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ (پ۲۲، فاطر:۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا۔
	لہٰذاہر وہ ضرورت سے زائد کام جو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بعد شروع ہوا وہ لہوو لعب ہے۔(۲)
شیطان کا لشکر اور گروہِ صحابہ وتابعین:
  	ابلیس لعین کے بارے میں حکایت ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے زمانے میں اس نے اپنے لشکر کو ادھر ادھر پھیلایا جب وہ پریشان حال تھکے ماندے واپس آئے تو اس نے پوچھا: ’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہم نے کسی کو ان (یعنی صحابہ) کی طرح نہیں دیکھا ہمیں ان سے سوائے تھکاوٹ کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے کہا: ’’تم ان پر قابو نہیں پا سکتے انہوں نے اپنے نبی کی صحبت اختیار کی ہے اور اپنے ربّ کی طرف سے نزول (وحی) کا مشاہدہ کیا ہے۔ البتہ ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن سے تمہاری حاجت پوری ہوگی۔‘‘جب تابعین کا زمانہ آیا تو اس نے اپنے لشکر کو اِدھر اُدھر بھیجا وہ شکستہ حال واپس آئے اور کہا کہ ہم نے ان سے زیادہ تعجب خیز لوگ نہیں دیکھے تاہم ان کے گناہوں کے سبب ہم کچھ نہ کچھ حصہ ضرور حاصل کرلیں گے۔ جب شام کا وقت ہواتوتابعین نے معافی طلب کرنا شروع کردی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی برائیاں نیکیوں سے بدل دیں ۔ شیطان نے کہا: ’’تم ان سے بھی کچھ حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا عقیدہ توحید صحیح ہے اور یہ اپنے نبی کی سنت پر عمل پیراہیں ۔ البتہ ان کے بعد کچھ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیر القرطبی، سورۃ البقرۃ تحت الآیۃ:۱۴۳، ج۲، ص۱۱۷، موقوفاً عن علی رضی اللّٰہ عنہ۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۹۷، باختصارٍ۔