میں ایسا کام جاری کیا جو دین سے نہیں تو وہ کام مردود ہے۔‘‘ (۱)
ایک روایت میں ہے کہ ’’جس نے میری امت سے دھوکا کیا اس پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت۔‘‘ عرض کی گئی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کی امت کے ساتھ دھوکا کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’کوئی بدعت جاری کرکے لوگوں کو اس کی ترغیب دینا۔‘‘ (۲)
شفاعت سے محرومی کاسبب:
سرکارِ مدینہ، راحت قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک فرشتہ ہر روز پکارتا ہے: جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول کی سنت کی مخالفت کی اسے حضور کی شفاعت سے حصہ نہیں ملے گا۔‘‘ (۳)
خلاف سنت بدعت جاری کرنے والے کی مثال:
دین میں سنت کی مخالف بدعت جاری کرنے والا شخص، گناہ کرنے والے کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے کسی بادشاہ کی حکومت کو بدلنے میں اس کی نافرمانی کرنے والے کے مقابلے میں وہ شخص جو کسی مقررہ خدمت میں اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ کیونکہ اس (یعنی مقررہ خدمت میں نافرمانی کرنے والے) کی معافی ہوسکتی ہے لیکن حکومت بدلنے کی کوشش کرنے والے کے لئے معافی نہیں ۔
بعض علما فرماتے ہیں : ’’جس مسئلے میں اسلاف نے گفتگو کی ہے اس میں خاموشی اختیار کرنا ظلم ہے اور جس میں انہوں نے خاموشی اختیار کی اس میں گفتگو کرنا تکلف ہے۔‘‘ (۴)
ایک عالم صاحب کا قول ہے: ’’حق بات گرہ ہے جس نے اس سے تجاوز کیا وہ ظالم ہے، جس نے اس میں کوتاہی کی وہ عاجز ہے اور جس نے اس پر توقف کیا وہ کفایت کرنے والا ہے۔‘‘ (۵)
حضور اکرم، نورمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس درمیانے راستے کو لازم پکڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح…الخ، الحدیث:۲۶۹۷، ج۲، ص۲۱۱۔
2…جامع الاحادیث، حرف المیم، الحدیث:۲۲۴۹۸، ج۷، ص۲۸۷۔
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۹۵۔
4…المرجع السابق، ص۲۹۶۔
5…المرجع السابق، ص۲۹۶۔