بدعات کے بارے میں نہ پوچھو کیونکہ انہوں نے اس کا جواب تیار کر رکھا ہے ان سے سنت کے بارے میں پوچھو اس لئے کہ یہ اسے جانتے ہی نہیں ۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرمایا کرتے تھے: ’’جس کے دل میں کوئی اچھی بات ڈالی گئی وہ اس پر اس وقت تک عمل نہ کرے جب تک کہ اس کے بارے میں کوئی حدیث نہ سن لے۔ پھر اگر وہ حدیث اس کے دل میں پیدا ہونے والی بات کے موافق ہو تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے۔‘‘ (۲)
یہ بات آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس لئے فرمائی کہ جو نئی آرا آتی ہیں وہ کانوں کو کھٹکھٹاتی اور دلوں سے معلق ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات دل کی صفائی مشکوک ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ روایات کی شہادت سے اسے ظاہر کیا جائے۔
منبر رکھنا بدعت نہیں :
جب مروان نے نمازِ عید کے موقع پر عیدگاہ میں منبر رکھا تو حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہوکر فرمایا: ’’اے مروان! یہ کیا بدعت ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’یہ بدعت نہیں بلکہ یہ تمہاری معلومات کے مقابلے میں بہتر ہے کیونکہ لوگ زیادہ ہوگئے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان سب تک آواز پہنچے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرے علم کے مطابق تم کبھی بھی اچھا کام نہیں کرو گے ۔ بخدا! میں تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا۔‘‘
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ اعتراض اس لئے کیا کیونکہ حضور نبی ٔ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عید اور نمازِ استسقا کے خطبہ میں کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگاتے تھے نہ کہ منبر پر۔ (۳)
ہر نیاکام جودین سے نہ ہو مردود ہے:
مشہور حدیث میں ہے کہ سیِّد ِعالم، نورِ مجسمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ہمارے دین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۸۵۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۸۵۔
3…المعجم الصغیر،من اسمہ یحیٰی،الحدیث:۱۱۷۱،ج۲،ص۱۴۳،بتغیرٍٍ۔ قوت القلوب،ج۱،ص۲۸۶۔