Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
276 - 1087
 میں بہت زیادہ مال خرچ کرنا اور ان میں قیمتی بچھونے (مثلا کارپیٹ، قالین وغیرہ) بچھانا نیکی سمجھا جاتا ہے حالانکہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے زمانے میں مسجد میں چٹائی بچھانا بھی بدعت شمار ہوتا تھا۔
مساجد میں چٹائی بچھانا کس کی ایجاد؟
	منقول ہے کہ مساجد میں چٹائی بچھانا حجاج بن یوسف ثقفی کی بدعات میں سے ہے۔ پہلے کے لوگ اپنے اور مٹی کے درمیان بہت کم رکاوٹ ڈالتے تھے۔ اسی طرح دقیق مسائل پر جھگڑنا اور مناظرے کرنا اِس زمانے کے بڑے بڑے علوم میں شمار ہوتا ہے اور اِن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قربِ خداوندی کا بہت بڑا ذریعہ اور عظیم عبادت ہے حالانکہ پہلے زمانے میں یہ منکرات میں شمار ہوتا تھا۔ تلاوتِ قرآن اور اذان میں لحن کرنا بھی انہی بدعات سے ہے۔ پاکیزگی میں مبالغہ اور طہارت میں وسوسہ بھی بدعت ہے۔ کپڑوں کی نجاست کے بارے میں اسبابِ بعیدہ فرض کئے جاتے ہیں جبکہ خوراک کے حلال وحرام ہونے کے سلسلے میں تساہل برتا جاتا ہے۔ اس قسم کی اور بھی کئی مثالیں ہیں ۔
	حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بالکل سچ فرمایا کہ ’’تم اس زمانے میں ہو جس میں خواہش علم کے تابع ہے اور عنقریب وہ دور آئے گا کہ علم، خواہش کے تابع ہوجائے گا۔‘‘  (۱)
	حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل فرمایا کرتے تھے: ’’لوگ علم ترک کرکے نادر وعجیب باتوں میں مشغول ہوگئے ہیں ۔ ان کا علم کتنا کم ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی مددگار ہے۔‘‘  (۲)
	حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں : ’’گزشتہ زمانے کے لوگ ان امور کے بارے میں ایسے نہیں پوچھتے تھے جیسا کہ آج کل لوگ پوچھتے ہیں اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام بھی یہ نہیں کہتے تھے کہ یہ حرام ہے، یہ حلال ہے ۔ بلکہ میں نے انہیں یوں کہتے سنا کہ یہ مستحب ہے یہ مکروہ ہے۔‘‘  (۳)
	 مطلب یہ کہ وہ کراہت اور استحباب کی باریکیوں کو دیکھتے تھے کیونکہ حرام کی برائی تو واضح ہے۔
لوگوں سے بدعت کے بارے میں نہ پوچھو!
	حضرت سیِّدُنا ہاشم بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’آج کے دورمیں لوگوں سے ان کی ایجاد کردہ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۸۴۔
2…المرجع السابق، ص۲۸۴، بتغیرٍقلیلٍ۔		
3…المرجع السابق، ص۲۸۴۔