Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
275 - 1087
 جسے اس کے عیبوں نے دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے روک دیا، اپنے پاکیزہ مال میں سے راہِ خدا میں خرچ کیا، علما کی صحبت میں بیٹھتا رہا، خطاکاروں اور نافرمانوں کی صحبت سے دور رہا۔ خوشخبری ہے اس کے لئے جو عاجزی اختیار کرتا، اس کے اخلاق اچھے، باطن صالح اور وہ لوگوں کو اپنے شر سے بچاتا ہے۔ خوشخبری ہے اس کے لئے جس نے اپنے علم پر عمل کیا، ضرورت سے زائد مال (راہِ خدا میں ) خرچ کیا اور فضول باتوں سے بچا، سنت نے اسے اپنے دامن میں لے کر بدعت تک جانے سے روک دیا۔‘‘  (۱)
اچھے شخص کی پہچان:
	حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’آخری زمانے میں اچھا کردار اعمال کی کثرت سے بہتر ہوگا۔ تم جس زمانے میں ہو اس میں تم میں سے اچھا وہ ہے جو اعمالِ صالحہ میں جلدی کرتا ہے۔ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں میں سے اچھا آدمی کثرتِ شبہات کی وجہ سے توقف کرے گا۔‘‘  (۲)
	بے شک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سچ فرمایا کیونکہ اس زمانے میں توقف نہ کرنے والا، عام لوگوں کی موافقت کرنے والا اور ان امور میں مشغول ہونے والا جن میں وہ مشغول ہیں اسی طرح ہلاک وبرباد ہوگا جس طرح وہ تباہ وبرباد ہوں گے۔
آج کے دور کی نیکی گزشتہ زمانے کی برائی :
	حضرت سیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اس بات پر زیادہ تعجب ہے کہ تمہارے دور کی نیکی گزشتہ زمانے کی برائی تھی اور تمہارے زمانے کی برائی آنے والے زمانے میں نیکی بن جائے گی، جب تک تم حق کی پہچان رکھو گے بھلائی پر رہو گے اور تمہارے دور کا عالم حق نہیں چھپاتا۔‘‘  (۳)
	آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سچ فرمایا بے شک اس زمانے کی اکثر نیکیاں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے زمانے میں برائیاں سمجھی جاتی تھیں ۔ ہمارے زمانے میں مساجد کو سجانا، انہیں آراستہ کرنا اور عمارتوں کی باریکیوں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزھد وقصرالامل، الحدیث:۱۰۵۶۳، ج۷، ص۳۵۵، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۶۔
3…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۶۔