کر رکھی ہے اور ان کا نفس یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہ طریقہ جنت سے محرومی کا باعث ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے سوا جنت کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔
بری رائے والا اور دنیا کا پجاری:
اسی لئے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اسلام میں دو نئے آدمی پیدا ہوں گے ایک بری رائے کا مالک ہوگا جو یہ خیال کرے گا کہ جنت اُسی کو نصیب ہوگی جس کی رائے اِس کے موافق ہوگی اور دوسرا وہ مالدار ہوگا جو دنیا کا پجاری ہوگا، دنیا ہی کی وجہ سے غصہ کرے گا، اسی کے لئے راضی ہوگا اور اسی کو طلب کرے گا، ان دونوں کو جہنم کی طرف چھوڑ دو۔ ایک آدمی اس دنیا میں دو ایسے آدمیوں کے درمیان ہوگا کہ ان میں سے ایک مالدار ہوگا جو اسے اپنی دنیا کی طرف بلائے گا اور دوسرا خواہش کا پجاری ہوگا جو اسے اپنی خواہش کی طرف راغب کرے گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے ان دونوں سے محفوظ رکھے گا۔ وہ اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا مشتاق ہوگا۔ ان کے افعال کے بارے میں پوچھتا، ان کی پیروی کرتا اور اجر عظیم کا طلب گار ہوگا۔ لہٰذا تم بھی ایسے بنو۔‘‘ (۱)
کلام اور سیرت:
حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’دو ہی چیزیں ہیں کلام اورسیرت۔ بہترین کلام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ہے اور بہترین سیرت رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہے۔ خبردار! بدعتوں (یعنی خلاف شرع کاموں ) سے دُور رہو کہ بدترین امور بدعات ہیں ۔ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت (جو شریعت کے خلاف ہو) گمراہی ہے۔ خبردار! لمبی عمر کاخیال دل میں مت آنے دینا ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ خبردار! جو وقت آنے والا ہے وہ قریب ہے اور دور وہ ہے جو آنے والا نہیں ۔‘‘ (۲)
خوش بخت کون؟
حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خطبہ مبارکہ میں ہے: ’’اس کے لئے خوش خبری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۵۔
2…سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، الحدیث:۴۶، ج۱، ص۳۴۔