کاموں ) پر لوگوں کے متفق ہونے سے دھوکے میں نہ پڑے بلکہ صحابۂ کرامعَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان کے احوال واعمال اور ان کی سیرت کو دریافت کرنے میں حریص ہو اور یہ جانے کہ وہ کن امور میں زیادہ کوشش کرتے تھے۔ کیا وہ تدریس، تصنیف، مناظرہ، قضا، حکمرانی، اوقاف اور وصیتوں کی تولیت (یعنی نگرانی کرنے)، یتیموں کے اموال (ناحق) کھانے اور حکمرانوں سے میل جول رکھنے میں مصروف رہتے تھے یا خوفِ خدا، غم، تفکر، مجاہدہ وریاضت، ظاہر وباطن کی نگرانی، صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب، نفس کی خفیہ خواہشات اور شیطان کے مکرو فریب کی جانچ وغیرہ علوم باطن میں مصروف رہتے تھے۔
حق کے زیادہ قریب کون؟
اس بات کا یقین کرلو کہ اس زمانے میں جو شخص صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے زیادہ مشابہ اور اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے راستے سے زیادہ واقف ہے وہی زیادہ علم والا اور حق کے زیادہ قریب ہے کیونکہ دین انہی لوگوں سے لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کی گئی کہ آپ نے فلاں کی مخالفت کی ہے تو انہوں نے فرمایا: ’’ہم میں بہتر وہ ہے جو اس دین کی زیادہ پیروی کرتا ہے۔‘‘ غرض یہ کہ تم صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان کی موافقت میں موجودہ زمانے کے لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کرو کیونکہ لوگوں نے صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان کے معاملات کے بارے میں اپنی طبیعتوں کے میلان کے مطابق ایک رائے قائم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گمراہی ہے، اور اگر دوسرے معنی مراد ہوں تب بھی یہ حدیث اپنے اطلاق پر ہے کسی قید لگانے کی ضرورت نہیں اور اگر تیسرے معنی مراد ہوں یعنی نیا کام تو یہ حدیث عام مخصوص البعض ہے کیونکہ یہ بدعت دو قسم کی ہے بدعت حسنہ اور سیئہ یہاں بدعت سیئہ مراد ہے بدعت حسنہ کے لیے کتاب العلم کی وہ حدیث ہے جو آگے آرہی ہے:’’مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً‘‘ الحدیث یعنی جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے وہ بڑے ثواب کا مستحق ہے۔ بدعت حسنہ کبھی جائز کبھی واجب کبھی فرض ہوتی ہے اس کی نہایت نفیس تحقیق اسی جگہ مرقاۃ اور اشعۃ اللمعات میں دیکھو نیز شامی اور ہماری کتاب جاء الحقمیں بھی ملاحظہ کرو، بعض لوگ اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ جو کام حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد ایجاد ہو وہ بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی، مگر یہ معنی بالکل فاسد ہیں کیونکہ تمام دینی چیزیں چھ کلمے، قرآن شریف کے ۳۰پارے، علم حدیث اور حدیث کی اقسام اور کتب، شریعت و طریقت کے چار سلسلے، حنفی شافعی یا قادری چشتی وغیرہ، زبان سے نماز کی نیت، ہوائی جہاز کے ذریعہ حج کا سفر اور جدید سائنسی ہتھیاروں سے جہاد وغیرہ اور دنیا کی تمام چیزیں پلاؤ، زردے، ڈاک خانہ ریلوے وغیرہ سب بدعتیں ہیں جو حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد ایجاد ہوئیں حرام ہونی چاہئیں حالانکہ انہیں کوئی حرام نہیں کہتا۔