لوگ اس کی طرف، قصہ گوئی اور وعظ کی طرف مائل ہوئے۔ اس زمانے میں علم یقین مٹنے لگا، اس کے بعد علم قلوب، صفاتِ نفس اور شیطان کے مکر وفریب کے بارے میں دریافت کرنا ایک عجیب بات ہو گئی سوائے چند لوگوں کے باقی سب نے اس سے منہ پھیر لیا اور جھگڑا کرنے والا متکلم عالم کہلانے لگا، مُسَجَّعْ عِبَارَت سے اپنا کلام مزین کرنے والا قصہ گو بھی عالم شمار ہونے لگا کیونکہ انہیں عوام ہی سنتے ہیں جنہیں حقیقت علم اور اس کے غیر میں فرق معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے احوال ان کے پیشِ نظر ہوتے کہ وہ فرق معلوم کرتے۔ پس ایسے لوگوں کو علما کا نام دیا جانے لگا اور پہلوں سے بعد والوں تک یہ نام چلتا آیا۔ علم آخرت لپیٹ دیا گیا۔ علم اور کلام کے درمیان فرق چند مخصوص لوگوں کے سوا سب کے نزدیک مخفی ہوکر رہ گیا جب ان سے پوچھا جاتا کہ ’’فلاں کے پاس زیادہ علم ہے یا فلاں کے پاس؟‘‘ تو وہ کہتے: ’’فلاں کے پاس علم زیادہ ہے اور فلاں کلام میں اس پر فائق ہے۔‘‘ خواص علم اور کلام پر قدرت کے درمیان فرق جانتے تھے۔ پچھلی صدیوں میں دین اتنا کمزور ہوگیا تھا تو اس زمانے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اب تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ کلام وغیرہ کا انکار کرنے والے کو پاگل کہا جاتا ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ انسان اپنی اصلاح میں مشغول ہوجائے اور خاموش رہے۔
{12}…علمائے آخرت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ ایسا عالم بدعتوں سے بہت زیادہ بچے اگرچہ سب لوگ ان میں ملوث ہوں ۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بعد پیدا ہونے والی بدعتوں (۱)(یعنی خلاف شرع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان مراٰۃ المناجیح ،ج1، ص146 پر ایک حدیث شریف کے اس جز ’’اور بدترین چیز دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : مُحْدَث کے معنے ہیں جدید اور نوپید چیز، یہاں وہ عقائد یا برے اعمال مراد ہیں جو حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی وفات کے بعد دین میں پیدا کیے جائیں ، بدعت کے لغوی معنیٰ ہیں نئی چیز، رب (عَزَّوَجَلَّ) فرماتا ہے: بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِؕ (پ۱،البقرۃ:۱۱۷، ترجمۂ کنزالایمان: نیاپیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا) اصطلاح میں اس کے تین معنیٰ ہیں (۱)نئے عقیدے اسے بدعت اعتقادی کہتے ہیں ۔ (۲)وہ نئے اعمال جو قرآن و حدیث کے خلاف ہوں اور حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد ایجاد ہوں ۔ (۳)ہر نیا عمل جو حضور کے بعد ایجاد ہوا۔ پہلے دو معنیٰ سے ہر بدعت بری ہے کوئی اچھی نہیں ، تیسرے معنی کے لحاظ سے بعض بدعتیں اچھی ہیں بعض بری، یہاں بدعت کے پہلے معنی مراد ہیں یعنی برے عقیدے کیونکہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اسے ضلالت یعنی گمراہی فرمایا۔ گمراہی عقیدے سے ہوتی ہے عمل سے نہیں ، بے نماز گناہ گار ہے گمراہ نہیں اور رب (عَزَّوَجَلَّ) کو جھوٹا یا حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو اپنی مثل بشر سمجھنا بدعقیدگی اور …