قرآن پاک کتابی صورت میں :
یہی وجہ تھی کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر اور دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی ایک جماعت نے قرآنِ پاک کو مصحف میں جمع کرنے کو ناپسند جانا اور فرمایا کہ ہم وہ کام کیوں کریں جو ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نہیں کیااور اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ مصحف ہی پر اعتماد نہ کر بیٹھیں اس لئے انہوں نے فرمایا: ’’ہم قرآنِ پاک کو اس طرح رہنے دیتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کو پڑھائیں سکھا ئیں تا کہ ان کا شغل اور مقصود یہی رہے۔‘‘ یہاں تک کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اور بعض دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے اس اندیشہ کے باعث قرآنِ پاک کی کتابت کا مشورہ دیا کہ کہیں لوگ سستی کا شکار ہوکر اسے چھوڑ نہ بیٹھیں اور اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں جھگڑا ہو اور کوئی اصل نسخہ نہ ملے جس کی مدد سے کسی متشابہ کلمے یا قراء َت میں دُرستی کی جاسکے پھر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سینہ بھی کھل گیا۔ چنانچہ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قرآنِ پاک کومصحف میں جمع فرما دیا۔
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل موطا امام مالک کی تصنیف کے بارے میں حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق پر اعتراض کرتے اور فرماتے کہ ’’انہوں نے وہ کام کیا جو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے نہیں کیا۔‘‘
اسلام میں تصنیف کی جانے والی ابتدائی کتب:
منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے ابن جریج کی کتاب تصنیف ہوئی جس میں آثار اور حضرت عطا، مجاہد اور ابن عباس کے دیگر شاگردوں سے منقول تفاسیر ہیں یہ کتاب مکۂ مکرمہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْماً میں تصنیف ہوئی۔ پھر یمن میں حضرت سیِّدُنا معمر بن راشد صنعانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی کتاب تصنیف ہوئی جس میں حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی احادیث ہیں ۔ پھر مدینہ طیبہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَکْرِیْماً میں حضرت سیِّدُنا امام مالک عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کی ’’موطا‘‘۔ پھر حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی کتاب ’’جامع‘‘ تصنیف ہوئی۔ پھر چوتھی صدی میں علم کلام میں کتابیں لکھی گئیں اور جنگ وجدل اور مقالات کو باطل کرنے میں غور وخوض ہونے لگا۔ اس کے بعد