Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
270 - 1087
سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا کے استاذ:
	حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فقہ میں حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اور قراء َت میں حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شاگرد تھے۔ پھر فقہ اور قراء َت میں ان دونوں سے اختلاف بھی کیا۔(۱)
	بعض بزرگوں نے فرمایا: ’’رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب سے ہمارے پاس جو کچھ آیا ہم نے اس تمام کو سر اور آنکھوں سے قبول کیا اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی طرف سے جو کچھ آیا اس میں سے ہم نے کچھ لے لیا اور کچھ چھوڑ دیا اور تابعین کی جانب سے جو کچھ ملا تووہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں ۔‘‘  (۲)
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو فضیلت دینے کی وجہ:
	صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو اس لئے فضیلت دی گئی کہ انہوں نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احوال مبارکہ کے قرائن کا مشاہدہ کیا، ان کے دل ان امور سے متعلق تھے جو قرائن سے معلوم ہوئے اور یہی بات ان کی درستی کی وجہ ہے کیونکہ روایت اور عبارت میں مشاہدہ کا دخل نہیں ہوتا ان پر نورِ نبوت کا اتنا فیضان تھا کہ وہ اکثر خطا سے محفوظ رہتے تھے۔ لہٰذا جب کسی سے سنی سنائی بات پر بھی اعتماد کرنا ایک ناپسندیدہ تقلید ہے تو پھر کتابوں پر اعتماد کرنا تو اس سے بھی بعید ہے۔
تصنیف و تالیف کی ابتدا کب سے ہوئی:
	 کتابیں بعد میں لکھی گئی ہیں زمانۂ صحابہ و تابعین کے ابتدائی دور میں ان کا وجود تک نہیں تھا یہ ہجرت کے 120برس بعد تمام صحابۂ کرام اور تابعین عظام مثلاً حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب، حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور دیگر اکابر تابعین عظام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے وصال کے بعد تالیف ہوئیں ۔ بلکہ صحابۂ کرام اور تابعین عظام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان تو احادیث لکھنا اور کتابیں تصنیف کرنا ناپسند جانتے تھے اس وجہ سے کہ کہیں لوگ احادیث کو زبانی یاد کرنے، قرآنِ پاک میں تدبر کرنے اور اس کے سمجھنے سے غافل ہوکر ان کتابوں ہی میں مشغول نہ ہوجائیں ۔ یہ حضرات فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح ہم یاد کرتے تھے تم بھی اس طرح یاد کرو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۴۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۷۴۔