نفیس اور عمدہ کے قابل خاص لوگ ہی ہوتے ہیں جبکہ عوام کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ آسان ہوتا ہے۔
{11}…علمائے آخرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ دل کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے علوم میں بصیرت اور اس کے ادراک پر اعتماد کرتے ہیں ، نہ کہ کتابوں پر اور نہ اس چیز کی تقلید پر جو کسی غیر سے سنی ہو اور بلاشبہ تقلید صرف صاحب شریعت کی ہے(۱) ہر اس چیز میں جس کا آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم یا اس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا ہو اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی تقلید بھی اس حیثیت سے کی جائے کہ یقینا ان کے افعال رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سننے پر دلالت کرتے ہیں ۔
پھر جب وہ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اقوال وافعال کو قبول کرکے آپ کی تقلید کرلے تو چاہئے کہ اب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسرار کو سمجھنے پر حریص ہوجائے کیونکہ تقلید کرنے والا یہ کام اس لئے کرتا ہے کہ صاحبِ شریعت نے ایسا کیا اور ان کے ایسا کرنے میں ضرور کوئی راز ہوگا۔ لہٰذا اعمال اور اقوال کے اسرار خوب تلاش کرلے اس لئے کہ اگر وہ سنی ہوئی بات کو یاد کرنے پر ہی اکتفا کرے گا تو گویا وہ علم کا ایک برتن ہوکر ہی رہ جائے گا عالم نہیں ہوگا۔
وہ علم کا برتن ہے نہ کہ عالم:
کہا جاتا تھا کہ فلاں شخص علم کے برتنوں میں سے ایک برتن ہے اسے عالم نہیں کہا جاتا تھا کیونکہ وہ حکمتوں اور رازوں پر مطلع ہوئے بغیر صرف حافظ ہوکر رہ جاتا تھااور جو شخص اپنے دل سے پردوں کو دور کرتا اور ہدایت کے نور سے روشن ہوجاتا ہے اس کی پیروی اور تقلید کی جاتی ہے اس وقت اسے کسی دوسرے کی تقلید نہیں کرنی چاہئے اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ’’رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سوا ہر ایک کے علم سے کچھ لیا جاتا اور کچھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…یہاں تقلید سے اتباع مراد ہے نہ کہ وہ جوفقہ میں ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی ہوتی ہے۔ تقلید کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی مایہ ناز تصنیف ’’جاء الحق‘‘حصہ اول (مطبوعہ:قادری پبلشرز لاہور) صفحہ 20تا38 کا مطالعہ کیجئے۔ علمیہ
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۱۹۴۱، ج۱۱، ص۲۶۹، بتغیرٍٍ۔