Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
268 - 1087
	علمائے آخرت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ دل کے مقامات اور اس کے احوال پر نظر رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ دل ہی توہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب کی طرف سعی کرتا ہے لیکن اب یہ فن نادر ہوگیا ہے اور جب کوئی عالم اس میں سے کسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو لوگ اس پر تعجب کرتے اور اسے بعید جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ تو واعظین کا اپنے کلام کو مزین کرنا ہے تحقیق کہاں ہے اور تحقیق کو محض جھگڑا خیال کرتے ہیں ۔ کسی نے سچ کہا ہے:
اَلطُّرُقُ شَتّٰی وَطُرُقُ الْحَقِّ مُفْرَدَۃٌ		وَالسَّالِکُوْنَ طَرِیْقَ الْحَقِّ اَفْرَادُ
لَا یُعْرَفُوْنَ وَلَا تُدْرٰی مَقَاصِدُھُمْ		فَہُمْ عَلٰی مَھْلٍ یَمْشُوْنَ قُصَّادُ
وَالنَّاسُ فِیْ غَفْلَۃٍ عَمَّا یُرَادُ بِہِمْ		فَجُلُّھُمْ عَنْ سَبِیْلِ الْحَقِّ رُقَّادُ
	ترجمہ:(۱)راستے تو مختلف ہیں مگر حق کا راستہ ایک ہی ہے اور حق کے راستے پر چلنے والے بھی منفرد ہوتے ہیں ۔
	(۲)نہ انہیں کوئی پہچانتا ہے اور نہ ان کے مقاصد معلوم ہوتے ہیں پس وہ راہِ حق کا ارادہ کرکے چلتے ہیں ۔
	(۳)اور لوگ ان کے مقاصد سے غافل ہیں کیونکہ کثیر لوگ حق کے راستے سے غافل ہیں ۔
علِم یقین ، احوال قلب اور باطنی صفات کے عالم:
	خلاصہ: یہ کہ اکثر لوگ آسان اور طبیعت کے موافق چیز کی طرف مائل ہوتے ہیں اس لئے کہ حق کڑوا ہے اس پر قائم رہنا مشکل، اسے حاصل کرنا دشوار اور اس کا راستہ پیچیدہ ہے۔ خصوصاً دل کی صفات کو جاننا اور اسے مذموم اخلاق سے پاک کرنا اس لئے کہ یہ ہمیشہ جانکنی کی حالت ہوتی ہے اور ایسا شخص دوا پینے والے کی طرح ہوتا ہے جو شفا کی امید رکھتے ہوئے دوا کی کڑواہٹ پر صبر کرتا ہے اور اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو تمام عمر روزوں میں گزارتا اور مصائب کو برداشت کرتا ہے تاکہ موت کے وقت اس کی عید ہو، ایسے طریقے میں رغبت کی کثرت کیسے ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ شہر بصرہ میں 120حضرات وعظ ونصیحت کرتے تھے لیکن سوائے تین کے علم یقین، دلوں کے احوال اور باطن کی صفات کے بارے میں کلام کرنے والا کوئی نہیں تھا ان میں ایک حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللّٰہ تستری، دوسرے حضرت سیِّدُنا صبیحی اور تیسرے حضرت سیِّدُنا عبدالرحیم رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن تھے۔ دوسروں کی صحبت میں کثیر لوگ بیٹھتے تھے جن کا شمار نہیں جبکہ ان کے پاس بہت کم لوگ ہوتے تھے کبھی کبھار 10سے زیادہ ہوجاتے تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ