سے حاصل کیا؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’رَسُوْلُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اس کلام سے خاص فرمایا کہ لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے جبکہ میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں برائی میں مبتلا نہ ہوجاؤں اور میں یہ بات جانتا تھا کہ بھلائی کا علم مجھ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘‘ ایک مرتبہ یوں فرمایا: ’’میں جانتا تھا کہ جو برائی کو نہیں جانتا وہ بھلائی کو بھی نہیں جانتا۔‘‘
ایک روایت میں اس طرح ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن عرض کیاکرتے: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جو کوئی فلاں فلاں نیک کام کرے اس کا اجر کیا ہے؟‘‘ وہ اعمال کے فضائل کے متعلق پوچھتے تھے جبکہ میں عرض کرتا: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فلاں فلاں عمل کے فساد کا باعث کون سی چیز ہے ؟ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا کہ میں اعمال کی آفات کے بارے میں سوال کرتا ہوں تو مجھے اس علم کے ساتھ خاص فرمایا۔‘‘ (۱)
رازدار صحابی :
حضرت سیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کومنافقین کے بارے میں خصوصی علم تھا۔ علم نفاق، اس کے اسباب اور فتنوں کی پیچیدگیوں کی معرفت میں آپ کو انفرادی حیثیت حاصل تھی۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی اور بڑے بڑے صحابۂ کرامعَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عام وخاص فتنوں اور منافقین کے بارے میں پوچھا کرتے تو آپ انہیں جواب دیتے کہ اتنے منافقین باقی رہ گئے ہیں لیکن ان کے نام نہ بتاتے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب اپنے بارے میں پوچھتے کہ کیامجھ میں بھی نفاق پایا جاتا ہے تو آپ انہیں اس سے بری قرار دیتے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب کسی کا جنازہ پڑھانے کے لئے کہا جاتا تو دیکھتے اگر حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود ہوتے تو پڑھاتے ورنہ نہیں ۔ حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو صاحب سر (یعنی راز دان) کہا جاتا تھا۔(۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، الحدیث:۳۶۰۶، ج۲، ص۵۰۲۔
قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۸۔
2…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۸۔