میں کسی اور کے لئے ہو نیز جب ان کا وقوع ہو تو ان کے بتانے والے کئی لوگ موجود ہوں اور جس چیز سے ہر وقت ان کا واسطہ پڑتا ہے اور رات دن ان کے دلوں ، وسوسوں اور اعمال میں اس کی تکرار ہوتی ہے اسے چھوڑے بیٹھے ہیں ۔
واضح نقصان:
وہ شخص سعادت مندی سے کتنا دور ہے جو اپنے لئے ضروری چیز کو کسی نادر ضرورت کے بدلے فروخت کردیتا اور اس طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب کے بدلے مخلوق کے قرب اور قبولیت کو اختیار کرلیتا ہے اور اس کا شر اس میں ہے کہ دنیا کے باطل پرست لوگ اسے فاضل، محقق علومِ عقلیہ اور پیچیدہ عبارات ومسائل کا عالم جانیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس بندے کی جزا یہ ہے کہ اسے دنیا میں لوگوں میں مقبولیت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس پر زمانے کے مصائب اُنڈیل دیئے جاتے ہیں پھر وہ قیامت کے دن مفلسی کی حالت میں آئے گا اور عمل کرنے والوں کا نفع اور مقربین کی کامیابی دیکھ کر حسرت کرے گااور یہی واضح (کھلا) نقصان ہے۔
کلام انبیا کے مشابہ کلام:
بے شک حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا کلام انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کلام کے زیادہ مشابہ تھا اور باعتبار ہدایت لوگوں میں سب سے زیادہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے قریب تھے۔ ان کے حق میں اس بات پر اتفاق ہے۔
نیز ان کا اکثر کلام دلوں کے خطرات، اعمال کے فساد، نفس اور دل کے وسوسوں اور نفس کی پوشیدہ خواہشات کے بارے میں ہوتا تھا۔ ایک بار ان سے پوچھا گیا: ’’اے ابوسعیدعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد! آپ ایسا کلام فرماتے ہیں جو آپ کے سوا ہم کسی سے نہیں سنتے۔ آپ اسے کہاں سے حاصل کرتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں عرض کی گئی: ’’ہم آپ کو اس حال میں دیکھتے ہیں کہ آپ ایسا کلام کرتے ہیں جو دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے نہیں سنا جاتا۔ آپ نے اسے کہاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الحادی والثلا ثون، باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا…الخ، ج۱، ص۲۵۸، بتغیرٍٍ۔