’’ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ‘‘سے مراد:
آقائے دوعالم، نورِ مجسمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
فَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ اَنۡ یَّہۡدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلۡاِسْلَامِ ۚ(پ۸،الانعام:۱۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے اللّٰہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔
تو عرض کی گئی: ’’شرح‘‘ سے کیا مراد ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’جب نور دل میں ڈالا جاتا ہے تواس کے لئے سینہ کھل جاتا اور کشادہ ہو جاتا ہے۔‘‘ پھر عرض کی گئی: ’’کیااس کی کوئی علامت بھی ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ہاں ! دھوکے کے گھر(یعنی دنیا) سے دور رہنا اور دائمی گھر(یعنی آخرت) کی طرف رجوع کرنا اور موت سے پہلے اس کے لئے تیار رہنا۔‘‘ (۱)
{10}…علمائے آخرت کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ان کی گفتگو اکثر اعمال کے علم اور ان اُمور کے متعلق ہوتی ہے جو فسادِ اعمال کا باعث بنتے، دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے، وسوسے پیدا کرتے اور شر کو پھیلاتے ہیں ۔ کیونکہ دین کی اصل ،برائی سے بچنا ہے۔ اسی لئے کسی نے کیاخوب کہا ہے:
عَرَفْتُ الشَّرَّ لَا لِلشَّرِّ لٰکِنْ لِتَوْقِیْہِ وَمَنْ لَا یَعْرِفِ الشَّرَّ مِنَ النَّاسِ یَقَعُ فِیْہِ
ترجَمہ:میں شر کو صرف شر ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانتا بلکہ اس سے بچنے کے لئے بھی پہچانتا ہوں ۔ لوگوں میں سے جو بھی شر کو نہیں پہچانتا وہ اس میں پڑ ہی جاتا ہے۔
اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جو اعمال فعلی (یعنی ظاہری اعضا سے کئے جاتے) ہیں وہ آسان ہیں اور ان سے بھی بلند تر اور عظیم عمل زبان اور دل سے ہمیشہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے رہنا ہے اور شان تو ان چیزوں کے جاننے میں ہے جو فساد اعمال اور دلی تشویش کا باعث بنتی ہیں ۔ اس کے شعبہ جات بہت زیادہ اور تفریعات بہت لمبی ہیں ۔ راہِ آخرت پر چلنے کے لئے ان تمام کی حاجت پڑتی ہے جبکہ عام لوگ اس میں مبتلا ہیں ۔
جہاں تک علمائے دنیا کی بات ہے تو وہ حکومت اور فیصلوں میں نادر تفریعات کی پیروی کرتے ہیں اور ایسی صورتیں وضع کرتے نہیں تھکتے جو زمانوں تک کبھی واقع نہ ہوں اور اگر کبھی واقع ہوں بھی تو انکا وقوع کسی خاص زمانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی الزھد وقصرالامل، الحدیث:۱۰۵۵۲، ج۷، ص۳۵۲۔